بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن سٹور بنانے کا حکم


سوال

آن لائن سٹور بنانا اور اس کے ذریعے خرید وفروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

خرید و فروخت سے متعلق اصولی طور پر یہ بات واضح رہے کہ جس وقت آپ کسی چیز کو بیچتے ہیں خواہ دکان پر بیچیں یا کسی آن لائن پلیٹ فارم پر بیچیں، شریعت کی رو  سے یہ ضروری ہے کہ وہ چیز آپ کی ملکیت میں ہو، آپ کے قبضے میں ہو اور آپ خریدار کو وہ چیز حوالے کرنے پر قدرت رکھتے ہوں، اگر ایسی چیز کو بیچا جائے جو اب تک بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے یا ملکیت میں تو ہے لیکن اس نے خود خریدنے کے بعد اب تک اس پر قبضہ نہیں کیا یا وہ خریدار کو وہ چیز حوالے کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تو یہ صورتیں شریعت کی نظر میں ناجائز ہیں۔

آن لائن کاروبار میں بکثرت غیر مملوک (یعنی جو چیز ملکیت میں نہیں ہے) یا غیر مقبوض (جس چیز پر قبضہ نہیں ہے) اشیاء  کی خرید و فروخت کی جاتی ہے،لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔ البتہ اگر غیر مملوک یا غیر مقبوض چیز کو فوراً نہ  بیچا جائے بلکہ اس کے بیچنے کا وعدہ کیا جائےیعنی اپنے آن لائن گاہک کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہم یہ چیز آپ کو فروخت کر دیں گے تو یہ صورت جائز ہے، پھر جب وہ چیز بیچنے والے کی ملکیت میں آجائے یا اس پر قبضہ ہو جائے تب اس چیز کو بیچ دیا جائے۔

اس کے علاوہ اگر آن لائن خرید و فروخت کی کسی خاص صورت کا حکم معلوم کرنا مقصود ہے تو اس کی تفصیل لکھ کر ارسال کردیں۔

النتف فی الفتاویٰ میں ہے:

"والثاني أن يكون المبيع غائبا وهو على وجهين:

أحدهما يقدر البائع على تسليمه ولا يحتاج أخذه إلى معالجة مثل الأمتعة والحيوانات وغيرها

والآخر أن يقدر على تسليمه ولكن يحتاج أخذه إلى معالجة مثل الثمار في رؤس الأشجار والأغصان ونحو ذلك والبيع في كلاهما جائز

والثالث أن لا يقدر البائع على التسليم مثل الصوف على ظهر الغنم والأولاد في البطون والعبد الآبق ونحو ذلك فالبيع فاسد فيها

والرابع أن يكون المبيع مفقودا فالبيع فاسد فيه لأن النبي عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما ليس عنده".

(‌‌أحوال المبيع، 1/ 437، ط: مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102412

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں