بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن نکاح کا حکم


سوال

مجھے حال ہی میں اپنے ایک دوست سے آن لائن نکاح کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟اگر یہ درست ہے، تو اس کا طریقہ کیا ہے؟

اور اس میں کون سی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً نکاح صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس  کا ایک ہونا، اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا خود موجود ہونا یا ان کے وکلاء کا موجود ہونا ضروری ہے۔ نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا، اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے۔

لہذا آن لائن  ٹیلیفون یا کال پر نکاح کرنے کی صورت یہ ہے کہ فریقین یعنی مر د و عورت میں سے کوئی ایک فون پر  ایسے آدمی کو اپنا وکیل مقرر کر لے جو دوسرے فریق کے پاس ہو، اور وہ وکیل شرعی گواہوں(دو مردوں، یا ایک مرداور دو عورتوں)  کی موجودگی میں فریق اول یعنی غائب کی طر ف سے ایجاب کر لےاور دوسرا فریق  اسی مجلس میں قبول کر لے، اس صورت میں اتحاد مجلس کی شرط پوری ہو جائے گی اورنکاح  صحیح ہو جائےگا۔اور  اگر  مذکورہ طریقہ کے مطابق  وکیل بنائے بغیر کال پر لڑکے اور لڑکی نے   ایجاب و قبول کر لیا تو ایجاب و قبول کی مجلس ایک  نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر، فكان القياس وجودهما في مكان واحد، إلا أن اعتبار ذلك يؤدي إلى سد باب العقود؛ فجعل المجلس جامعا للشطرين حكما مع تفرقهما حقيقة للضرورة، والضرورة تندفع عند اتحاد المجلس، فإذا اختلف تفرق الشطرين حقيقة وحكما فلا ينتظم الركن."

(کتاب النکاح،فصل شرائط الركن، ج:2، ص:232، ط: دارالکتب العلمية)  

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں