بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اومان جڑی بوٹی کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟


سوال

 اومان کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اومان ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے، جو کہ پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں پائی جاتی ہے اور اس کی رنگت نیلی قسم کی ہوتی ہے ۔ اس کو تلاش کر کے پکایا جاتا ہے اور پکنے کے بعد اس کو نشہ آور اشیاء میں استعمال کرتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ: اس کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اور اس سے جو پیسے کماۓ جاتے ہیں وہ حلال ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر اومان جڑی بوٹی کو  صرف  نشہ آور اشیاء  کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، تو ایسی صورت میں مذکورہ جڑی بوٹی  کاکاروبار کرنا  مکروہ تحریمی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وصح ‌بيع ‌غير ‌الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.

ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية."

(‌‌كتاب الأشربة،454/6، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق.

(بخلاف بيع أمرد ممن يلوط به وبيع سلاح من أهل الفتنة) لأن المعصية تقوم بعينه ثم الكراهة في مسألة الأمرد مصرح بها في بيوع الخانية وغيرها واعتمده المصنف على خلاف ما في الزيلعي والعيني وإن أقره المصنف في باب البغاة. قلت: وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها،فليحفظ توفيقا.

(قوله فليحفظ توفيقا) بأن يحمل ما في الخانية من إثبات الكراهة على التنزيه، وما في الزيلعي وغيره من نفيها على التحريم، فلا مخالفة وأقول هذا التوفيق غير ظاهر لأنه قدم أن الأمرد مما تقوم المعصية بعينه وعلى مقتضى ما ذكره هنا يتعين أن تكون الكراهة فيه للتحريم فلا يصح حمل كلام الزيلعي وغيره على التنزيه، وإنما مبنى كلام الزيلعي وغيره على أن الأمرد ليس مما تقوم المعصية بعينه."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة،‌‌فصل في البيع،391/6، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502102225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں