بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دفتر میں افسران کے ناجائز کام یا رشوت پر گفتگو کرنا غیبت میں آئے گا یا نہیں؟


سوال

 دفتر میں افسران کے ناجائز کام یا رشوت پر گفتگو کرنا ، کیایہ بھی غیبت میں آئے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں ا فسران کے  کسی   ناجائز کام   یا رشوت  لینے پر مجاز اتھارٹی  کے علاوہ  کسی اور سےگفتگو کرنا بھی  غیبت  میں داخل ہے، البتہ کسی کو ایسے افسر کے شر سے بچانے، اور ہوشیار  کرنے کی غرض سے بتانا غیبت میں داخل نہیں۔

"رد المحتار"میں ہے:

"وفي "تنبيه الغافلين" للفقيه أبي اللّيث: الغيبة على أربعة أوجه: في وجه هي كفر، بأن قيل له: لا تغتب، فيقول: ليس هذا غيبة، لأنّي صادق فيه، فقد استحلّ ما حرّم بالأدلّة القطعيّة، وهو كفر، وفي وجه هي نفاق، بأن يغتاب من لا يسمّيه عند من يعرفه فهو مغتاب، ويرى من نفسه أنّه متورع، فهذا هو النّفاق، وفي وجه هي معصية، وهو أن يغتاب معيّناً ويعلم أنّها معصية فعليه التّوبة، وفي وجه هي مباح، وهو أن يغتاب مُعلِناً بفسقه أو صاحب بدعة، وإن اغتاب الفاسق ليحذره النّاس يُثاب عليه، لأنّه من النّهي عن المنكر".

(كتاب الحظر والإباحة، 6/409، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں