
ہمارے آفس کی مسجد جو کہ آفس کی حدود میں ہے، وہاں پانچ وقت کی نماز بھی باجماعت نہیں ہوتی لیکن وہاں کوئی بھی شخص باہر سے آنا چاہے تو آ سکتا ہے۔ تو کیا آفس کے ملازمین وہاں نمازِ جمعہ ادا کر سکتے ہیں اور کیا ان سب کی نماز ادا ہو جائے گی؟
واضح رہے جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ادا کرنا افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ جمعہ کی نماز عام احوال میں یعنی اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو جامع مسجد میں ادا کی جائے ۔ تاہم اگر آفس شہر کے حدود میں واقع ہے، اورآفس کی مسجد میں جمعہ ہونے کی صورت میں باہر سے آنے والے افراد بھی جمعہ میں شریک ہوسکتے ہیں،ان کو روکا نہیں جاتا تو ایسی صورت میں امام کے علاوہ کم سے کم مزید تین نمازی ہو اور امام جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ بھی دے تو آفس کی مسجد میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی شرعاً جائز ہے۔
درر الحكام شرح غرر الاحكام میں ہے:
"(قوله شرط صحتها. . . إلخ) أقول فجملة شروط الصحة ستة المصر والجماعة والخطبة والسلطان والوقت والأذان العام."
(كتاب الصلاة، باب صلاۃ الجمعة، 136/1، ط:دار إحياء الكتب العربية)
فتاوی شامی میں ہے:
"السادس: (الجماعة) وأقلها ثلاثة رجال (ولو غير الثلاثة الذين حضروا) الخطبة (سوى الامام) بالنص لانه لا بد من الذاكر وهو الخطيب، وثلاثة سواه بنص - فاسعوا إلى ذكر الله.
(قوله وأقلها ثلاثة رجال) أطلق فيهم فشمل العبيد والمسافرين والمرضى والأميين والخرسى لصلاحيتهم للإمامة في الجمعة، إما لكل أحد أو لمن هو مثلهم في الأمي والأخرس فصلحا أن يقتديا بمن فوقهما، واحترز بالرجال عن النساء والصبيان فإن الجمعة لا تصح بهم وحدهم لعدم صلاحيتهم للإمامة فيها بحال بحر عن المحيط."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، 151/2، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها: الإذن العام) و هو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافةً حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع و أغلقوا أبواب المسجد على أنفسهم و جمعوا لم يجز، و كذلك السلطان إذا أراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار و أذن إذنًا عامًّا جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها، كذا في المحيط."
(کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، 148/1، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100189
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن