بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1448ھ 20 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کےاطراف میں تصویرکے حکم پرمشتمل ایک فتویٰ پراستفسارکا تفصیلی جواب


سوال

آپ کے فتویٰ نمبر 144710101289 سے معلوم ہوا کہ تصویر نمازی کے سامنے، دائیں، بائیں یا پیچھے ہو تو نماز مکروہ ہوتی ہے، اور اس سے بظاہر یہ مفہوم نکلتا ہے کہ نماز کی جگہ کے چاروں اطراف میں اگر کسی دیوار، پردے، زمین یا کسی اور چیز پر تصویر کھڑی حالت میں موجود ہو تو نماز مکروہ ہوگی۔ میرا اشکال یہ ہے کہ یہ مفہوم بظاہر فتاویٰ شامی کی عبارت کے خلاف معلوم ہوتا ہے، کیونکہ شامی میں "بحذائه" کے الفاظ مذکور ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کراہت اس وقت ہے جب تصویر بعینہٖ نمازی کے سامنے، دائیں، بائیں یا پیچھے ہو، نہ کہ یہ کہ پوری جگہ یا کمرے میں کہیں بھی تصویر موجود ہونے سے نماز مکروہ قرار دی جائے۔

مزید یہ کہ جس طرح نمازی کے سامنے سے گزرنے والے مسئلے میں فقہاء کی مراد نمازی کے عین سامنے سے گزرنا ہوتی ہے، نہ کہ پورے کمرے یا پوری جگہ میں کسی بھی مقام سے گزرنا، اسی طرح یہاں بھی بظاہر سامنے، دائیں، بائیں یا پیچھے سے نمازی کے محاذات اور متصل جہات مراد ہونی چاہئیں، نہ کہ پوری جگہ کے تمام اطراف۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة..."

لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. فتویٰ میں ”سامنے، دائیں، بائیں یا پیچھے“ سے کیا صرف نمازی کے محاذات اور متصل جہات مراد ہیں یا پورے کمرے/جگہ کی تمام دیواریں اور اطراف مراد ہیں؟

2- اگر تصویر نمازی کے سامنے، دائیں، بائیں یا پیچھے نہ ہو بلکہ کمرے کے کسی دوسرے حصے میں ہو تو کیا تب بھی نماز مکروہ ہوگی؟

3- "بحذائه" کے لفظ کے پیش نظر مذکورہ فتویٰ کی توجیہ کیا ہے؟

4- جس طرح نمازی کے سامنے سے گزرنے کے مسئلے میں ”سامنے“سے بعینہٖ نمازی کا سامنا مراد لیا جاتا ہے، کیا یہاں بھی یہی مراد نہیں ہونی چاہیے؟

5- اگر تصویر ایسی جگہ رکھی ہو جہاں اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ نظر نہ آتی ہو، یا اتنی دور ہو کہ نمازی کو اس کے اعضاء و تفصیلات واضح نظر نہ آتی ہوں، تو کیا ایسی صورت میں بھی نماز مکروہ ہوگی؟

6- اگر تصویر پردے کے پیچھے ہو اور پردہ اتنا لٹکا ہوا ہو کہ   قیام اور رکوع میں تصویر نظر نہ آتی ہو،البتہ  سجدہ کی حالت  میں یا کوئی زمین پر لیٹ کر یا غیر معمولی زاویے سے دیکھے تو پردے کے نیچے سے تصویر نظر آ سکتی ہو، تو کیا ایسی صورت میں نماز مکروہ ہوگی یا نہیں؟

7- کراہتِ نماز کے لیے تصویر کا بالفعل نمازی کو نظر آنا معتبر ہے یا محض اس سمت میں تصویر کا موجود ہونا کافی ہے، براہِ کرم دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

1-2-3.مذکورہ فتوی میں”سامنے ،دائیں،بائیں،یاپیچھے “سے مرادنمازی کے محاذات اورمتصل جہات ہی مرادنہیں ،بلکہ  دیواروں سمیت  پوراکمرہ مراد ہے،تصویر کمرے کےجس حصہ میں  بھی ہو،نمازمکروہ ہوگی،البتہ جو تصویر اس قدر چھوٹی ہوکہ نظرنہ آتی ہو،یاسجدہ کے مقام  کے علاوہ  زمین کے کسی اورحصہ پر ہوکہ جس سے  اس کی توہین لازم آتی ہوتو نمازمکروہ نہ ہوگی۔کیوں کہ  تصویرکی موجودگی میں نمازکے  مکروہ  ہونے کی اصل وجہ    تصویر کی  تعظیم اوربتوں کی عبادت کی مشابہت ہے،جہاں اور جس جگہ  تصویر اس حال  میں ہو کہ جس سے اس کی تعظیم اوربتوں کی عبادت کے ساتھ مشابہت  لازم آتی ہوتووہاں نمازمکروہ ہوگی ،اورجس جگہ تصویر اس حال میں نہ ہو تووہاں نمازمکروہ نہ ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامیؒ سے یہی منقول ہے،ملاحظہ ہو:

"أقول: الذي يظهر من كلامهم أن العلة إما التعظيم أو التشبه كما قدمناه، والتعظيم أعم؛ كما لو كانت عن يمينه أو يساره أو موضع سجوده فإنه لا تشبه فيها بل فيها تعظيم، وما كان فيه تعظيم وتشبه فهو أشد كراهة، ولهذا تفاوتت رتبتها كما مر"

(فتاوی ٰشامی ،کتاب الصلوۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:650، ط:سعید)

اسی طرح علامہ ابن الہمامؒ نے  بھی نمازکے مکروہ ہونے کی اصل وجہ تصویر کی تعظیم اوربتوں کی عبادت کےساتھ  مشابہت  کو قراردیا ہے،تاہم علامہ ؒنےیہ بات بیان کرتے ہوئے علامہ شامی ؒ کی تعبیرسے  ذرامختلف تعبیر اختیارکی ہے،حاصل علامہ کی بیان  کردہ توجیہ کابھی وہی ہے جوعلامہ شامی ؒکی  مذکورہ عبارت کا ہے،ملاحظہ ہو،علامہ ؒفرماتے ہیں:

"قد يقال كراهة الصلاة تثبت باعتبار التشبه بعبادة الوثن وليسوا يستدبرونه ولا يطؤنه فيها ففيما يفهم مما ذكرنا من الهداية نظر.

وقد يجاب بأنه لا بعد في ثبوتها في الصلاة باعتبار المكان كما كرهت الصلاة في الحمام على أحد التعليلين، وهو كونها مأوى الشياطين، وهو متحقق هنا لأن امتناع الملائكة من الدخول للصورة مع تسلط الشياطين لا يكون إلا لمانع يوجب ذلك، وكذا لو لم يتحقق كالأرض المغصوبة فإنه ثبتت كراهة الصلاة في خصوص مكان باعتبار معنى فيه نفسه لا فيها. فإن قيل: فلم لم يقل بالكراهة وإن كانت تحت القدم وما ذكرت يفيده لأنها في البيت.

وكذا ظاهر الحديث المذكور في الكتاب وهو ما أخرجه مسلم عن عائشة رضي الله عنها «واعد رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل في ساعة يأتيه فيها، فجاءت تلك الساعة ولم يأته وفي يده عصا فألقاها، وقال: ما يخلف الله وعده ولا رسوله، ثم التفت فإذا جرو كلب تحت سريره، فقال: ما هذا يا عائشة؟ متى دخل هذا الكلب هاهنا؟ فقالت: والله ما دريت، فأمر به فأخرج، فجاء جبريل عليه السلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: واعدتني فجلست لك فلم تأت فقال: منعني الكلب الذي كان في بيتك، إنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة» انتهى.

وبه يعترض على المصنف أيضا حيث كان دليله عاما لجميع الصور، وهو يقول لا يكره كونها في وسادة ملقاة إلى آخر ما ذكر. فالجواب لا يكره جعلها في المكان كذلك لتعدى إلى الصلاة. وحديث جبريل مخصوص بذلك، فإنه وقع في صحيح ابن حبان، وعند النسائي «استأذن جبريل عليه السلام على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ادخل، فقال: كيف أدخل وفي بيتك ستر فيه تصاوير، فإن كنت لا بد فاعلا فاقطع رءوسها أو اقطعها وسائد أو اجعلها بسطا» ولم يذكر النسائي اقطعها وسائد "

(فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:415، ط:حلبي)

اس پوری عبارت کا خلاصہ یہی نکلتاہے کہ تصویر کی وجہ سےنمازکے مکروہ ہونے کی اصل وجہ یاتوبذات خودوہ  مکان ہے کہ جہاں  ایسی  تصویر موجود ہےکہ جس کی وجہ سے اس کی تعظیم اورتوقیر لازم آتی ہے،کیوں کہ جب تصویر کی تعظیم ہوتی ہے تو اس سےشیطان خوش ہوتے ہیں ،اوراس جگہ کواپناٹھکانہ اورمرکز بنالیتے ہیں،اورشیطانوں کےاس مکان کو ٹھکانا بنانے کی وجہ سے نمازمیں کراہت آجاتی ہے۔

یا پھرنمازکے مکروہ ہونے کی اصل وجہ تصویروالا وہ مکان بذات خود تونہیں ،لیکن ا س مکان  کےساتھ تصویر کاملحق ہوجاناہے کہ جس کی وجہ سے جب تک وہ تصویر اس مکان میں رہے گی ،تب تک ا س جگہ میں کراہت بھی ہوگی ،جیسے مغصوبہ زمین  میں بذات خودتوکوئی خرابی نہیں پائی جاتی ،البتہ ناحق قبضہ کی وجہ سے اس میں کراہت آجاتی ہے، اور جب تک جب تک وہ غاصبانہ قبضہ ختم نہیں ہوجاتاتب تک وہاں نماز پڑھناکراہت سے خالی نہیں ہوتا،یہی حال تصویر کاہے۔

لہٰذامعلوم یہ ہواکہ  تصویرکی وجہ سے نماز میں کراہت  اس وقت آتی ہے کہ جب تصویرایسی حالت میں ہوکہ جس سے اس کی تعظیم اوربتوں کی عبادت کےساتھ مشابہت  لازم آئے،اورتعظیم  (جیسا  کہ علامہ ابن الہمامؒ اورعلامہ شامی  ؒکی مذکورہ عبارات سے واضح ہے)  صرف نمازی کے بالکل برابرمیں بعینہ   دائیں ،بائیں،آگے،پیچھے اوراوپر کی جانب کےساتھ  خاص نہیں ہے بلکہ  نمازی کے اطراف کی  تمام جہات کوعام ہے،نمازی کےدائیں، بائیں آمنے سامنے،اوراوپر کی جس جگہ بھی تصویر موجو دہووہاں نمازپڑھنے سے نمازمکروہ ہوگی،البتہ بتوں کے ساتھ مشابہت صرف تصویرکے روبروہونے کی صورت میں ہوگی،اوراس وقت  کراہت سب سےزیادہ ہوگی۔

  یہیں سے یہ  بھی واضح ہواکہ فتاوی شامی کے متن کی عبارت میں "بحذائه"کے    لفظ  سے اس کاحقیقی معنی (بالمقابل ،برابر)مراد نہیں ہے،بلکہ مجازی معنی (دائیں اوربائیں  کوئی بھی  جانب  )مراد ہے،کمافي البحرالرائق"والمراد بحذائه يمينه ويساره"متن میں بھی "یمنة أو يسرة"سے مجازی معنی کی طرف اشارہ ہے،سائل نے  "بحذائه"سے جومعنی مرادلیاہے،وہ درست نہیں ہے،کیوں کہ اس صورت میں حقیقت اورمجاز  دونوں کا  ایک ساتھ  جمع ہونالازم آئےگا،جواصول کے خلاف  ہے، اصول یہ ہے کہ حقیقت اورمجاز   دونوں  کوبیک وقت   جمع کرکے ان کی پوری پوری رعایت رکھناجائز  نہیں ہے،پس  متن کی عبارت کاسائل کی توجیہ کے مطابق اگریہ  ترجمہ کرلیاجائےکہ تصویر نمازی کےبعینہ  دائیں اوربائیں جانب ہوتونمازمکروہ ہوگی ،ورنہ نہیں، تویہاں حقیقی معنی بعینہ (برابر) کی رعایت بھی ہوگی،اورمجازی معنی ”دائیں اوربائیں“کی بھی مکمل رعایت  ہوگی ،اوریہ صورت ممنوع ہے،ہاں!اگرایساعام مجازی معنی مراد لیاجائے کہ جومجازی ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت کے افراد کا بھی ایک فرد ہو، یعنی اس معنی مجازی میں حقیقی معنی  کی بالکلیہ رعایت  تونہ ہوالبتہ جزوی طورپرکچھ نہ کچھ اس میں حقیقی  معنی بھی آجاتاہوتویہ صورت جائزہوگی،مثلاََمذکورہ عبارت میں "بحذائه"کا یہ ترجمہ کیا جائے کہ تصویرنمازی کے دائیں، بائیں کے اطراف میں ہوتونمازمکروہ ہوگی،یہ ایساعام معنی ہے کہ اس  میں اگرتصویرنمازی کے دائیں بائیں اطراف میں ہولیکن بعینہ برابر میں نہ ہوتوبھی نمازمکروہ ہوگی،اور دائیں بائیں ہونے کے ساتھ اگرتصویرنمازی کےبعینہ  برابر میں ہوتوتب بھی  نمازمکروہ ہوگی،   اصطلاح میں ایسا عام معنی مرادلینا”عموم مجاز“کہلاتاہے،مذکورہ  عبارت میں "بحذائه"سے ” عموم مجاز“ ہی مرادہے۔

الغرض اس   پوری تفصیلی توجیہ کاخلاصہ یہ   ہواکہ نمازی کے آس پاس  دائیں اوربائیں  اطراف  میں اگرتصویرموجود  ہوئی تونماز مکروہ ہوگی۔اورجوتوجیہ سائل نے بیان کی ہے کہ تصویرنمازی کے بعینہ دائیں بائیں جانب ہوتونمازمکروہ ہوگی،ورنہ نہیں ،یہ توجیہ حقیقت اورمجاز دونوں کے بیک وقت جمع  ہونے  کی وجہ سے درست نہیں ہے۔

4-نمازی کےسامنے سے گزرنے والامسئلہ  کی مذکورہ مسئلہ سے کوئی نسبت نہیں ہے،کیوں کہ نمازکی حالت  میں  کسی شخص کانمازی کے آس پاس ،اورآمنے سامنے   موجود ہونامکروہ فعل نہیں ہے،بلکہ نمازی کے آگے سے گزرنامکروہ فعل ہے،اوریہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب کوئی شخص نمازی کے بعینہ  سامنے  سے گزرے،جب کہ مذکورہ مسئلہ میں کراہت کی اصل وجہ اورعلت تصویر کااس طرح  موجود ہوناہےکہ جس سے اس کی تعظیم اور توقیر لازم آئے ،اور یہ صورت نمازی کے بالمقابل   جہات  کے ساتھ ہی خاص نہیں ، بلکہ نمازی کے جس  طرف بھی  اگرتصویر ہوئی تواس سے تصویر کی تعظیم اورتوقیر لازم آئے گی ، یہی بات  ممنوع ہے،لہٰذا دونوں مسئلوں میں فرق ہے، کسی ایک مسئلہ  کودوسرے مسئلہ  پرقیاس کرنادرست نہیں ہے۔

5-اگرتصویر نمازی سےاتنی دورہوکہ اس کے اعضاء کی تفصیلات واضح نہ ہوسکیں،تو نمازمکروہ نہیں ہوگی،کماقال ابن عابدین شامیؒ:"أو لا تبدو له من بعيد كما في المحيط"

(فتاوی ٰشامی ،کتاب الصلوۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،  ج:1، ص: 648، ط:سعید)

البتہ اگرتصویر نمازکے مقام میں بالکل واضح ہو، لیکن  اندھیرے کی وجہ سے وہ  نظر نہ آتی ہو،توتب یہ  تصویر مستور(پوشیدہ )تصویرکے حکم ہوگی،اوراس جگہ نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہوگا۔کیوں کہ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگرتصویر کسی پردے وغیرہ  میں بند ہویا چھپی ہوئی ہوتوتب اس جگہ نمازپڑھنابلاکراہت درست ہے، وجہ  وہی  ہےکہ  ایسی صورت میں تصویر کی وجہ سے   مذکورہ خرابیاں ،یعنی تعظیم وتکریم اوربتوں کے ساتھ مشابہت نہیں پائی جاتی ،یہی حال اندھیرے کاہے کہ اگراندھیرے میں نمازپڑھی جائے توتصویرنمازی کے  تمام اطراف میں  مستورہونے کے مانندہوگی، جس سے اس کی تکریم لازم نہیں آئے گی،اورنمازبلاکراہت صحیح ہوجائے گی۔جیسے فتاوی شامی میں ہے:

 "لاتكره إمامة من في يده تصاوير لأنها مستورة بالثياب لا تستبين فصارت كصورة نقش خاتم"

(کتاب الصلوۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:648، ط:سعید)

6-جیساکہ ابھی معلوم ہواکہ فقہاء کرام نے  تصویر کے  مستورہونے کونمازکے مکروہ ہونے کاسبب نہیں بتلایا،اوریہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب تصویر نمازکے تمام احوال (قیام ،رکوع ،سجدہ اورتشہد) میں  مستورہو،کیوں کہ  تصویر (جوتعظیم کومستلزم ہو )اگرنماز کے  احوال میں سے بعض ا حوال میں  ظاہر ہو،اور بعض میں نہ ہوتوجن احوال میں ظاہرہوگی ،ان میں لامحالہ کراہت آئے گی،اورنمازتجزی کوقبول نہیں کرتی،اس لیے  بعض احوال میں پیداہونے والی   کراہت  پوری نمازکومستلزم ہوگی۔

لہٰذاجوتصویر پردہ کے پیچھے ہو،اورقیام اوررکوع میں تو نظرنہ آئے البتہ سجدہ میں جاتے ہوئے  اگرسامنے ہوتوپردے کے نیچے سےبلاتكلف  نظرآجائے ، یاسامنے نہ ہوبلکہ نمازی کے پچھلی جانب ہو،اورسجدہ کی حالت میں وہ  پردہ کے نیچے سے ظاہر ہوجاتی ہوتوایسی صورت میں نمازمکروہ ہوگی۔البتہ  پردے کے پیچھے مستورتصویرلیٹنے یاغیر معمولی زاویہ  کی بناء پر  دیکھنے سے اگرنظرآسکتی  ہوتوایسی صورت میں نماز مکروہ نہ ہوگی ،کیوں کہ یہ سب تکلفات وتعسفات ہیں،اور تکلفات کی  وجہ سے نماز مکروہ قرار نہیں دی جاسکتی  ،یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی پردے کے باریک باریک سوراخوں میں  جھانک کردیکھے تواسے تصویرنظرآجائے،اگراس بنیاد پرنمازکومکروہ قراردیاجائے تو تب پردہ  کے ہونے نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں رہے   گا،اورفقہاء  کی صراحت "مستورة بالثياب "کاکوئی معنی نہیں ہوگا۔لہٰذانمازیا نماز سے باہر اگرپردے کے پیچھے موجود تصویر بتکلف     دیکھ لی  جائے  تواس سے نمازمیں کراہت نہیں آئے گی،ایسی جگہ نمازپڑھنا جائز ہوگا ۔

جیسے مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"هذا (القول بکراھة الصلوة)إذا كانت الصورة تبدو للناظرين من غير تكلف"

(كتاب اللباس ، باب التصاوير، ج:7، ص: 2855، ط:دار الفكر)

7-مذکورہ بالاتفصیل سے واضح ہے کہ  نمازکے مکروہ ہونے کے لیےتصویرکابالفعل نمازی کونظرآنامعتبر نہیں ہے،بلکہ محض اس سمت میں تصویرکاموجودہوناکافی ہے۔

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144801102025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں