بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نقدی رہن رکھنے کا حکم


سوال

1۔-اگر نقد رقم رہن میں رکھوائی گئی ہو تو کیا رہن کی واپسی کے وقت بعینہٖ وہی نوٹ واپس کرنا ضروری ہیں؟ یا وہ نوٹ استعمال کر کے رہن واپسی کے وقت دوسری رقم (دوسرے نوٹ) کی ادا ئیگی بھی جائز ہے؟

2۔کرایہ پر دیے گئے مکان یا زمین پر زکات کا کیا حکم ہے؟ لازم ہے یا نہیں؟ مکان اگر رہائش کے لیے خریدا گیا ہو پھر کرایہ پر دے دیا گیا ہو، یا ابتدا ہی سے کرایہ پر دینے کی نیت سے خریدا گیا ہو، بہر دونوں صورت زکات کا کیا حکم ہے؟-

جواب

1۔مرہونہ چیز (گروی) ودیعت کے حکم میں ہوتی ہے، اور ودیعت کی چیز کو استعمال کرنا یا اسے تبدیل کرنا جائز نہیں ہوتا، لہٰذا رَہن کی واپسی کے وقت گروی رکھی گئی رقم بعینہٖ واپس کرنا ضروری ہے، اسے تبدیل کرنا جائز نہیں۔

2۔کرایہ پر دی گئی زمین یا مکان کی مالیت پر زکات لازم نہیں ہوتی، چاہے یہ مکان کرایہ کی نیت سے خریدا گیا ہو، یا رہائش کی نیت سے خریدا گیا ہو اور بعد میں کرایہ پر دے دیا گیا ہو۔ البتہ اگر اس کا کرایہ جمع ہوتا رہے اور وہ کرایہ تنہا یا دیگر اموالِ نصاب کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار تک پہنچ جائے، اور اس پر ایک سال گزر جائے، تو اس کی زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويجوز رهن الدراهم والدنانير والمكيل والموزون".

(کتاب الرھن، الباب العاشر، ج:5، ص:473، ط:دار الفکر)

وفیه أیضاً:

"اعلم بأن عين الرهن أمانة في يد المرتهن بمنزلة الوديعة ففي كل موضع لو فعل المودع الوديعة لا يغرم فكذلك إذا فعل المرتهن ذلك بالرهن لا يغرم إلا أن الوديعة إذا هلكت لا يغرم شيئا، والرهن إذا هلك سقط الدين، وفي كل موضع لو فعل المودع الوديعة يغرم فكذلك المرتهن إذا فعل ذلك بالرهن ثم الوديعة لا تودع، ولا تعار، ولا تؤاجر كذلك الرهن ليس للمرتهن أن يؤاجر الرهن".

(کتاب الرھن، الباب الثامن، ج:5، ص:465، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وعدم تعين النقد ليس على إطلاقه، بل ذلك في المعاوضات وفي العقد الفاسد على إحدى الروايتين...

وفيما إذا تبين بطلان القضاء بأن أقر بعد الأخذ أنه لم يكن له على خصمه شيء فيرد عين ما قبض لو قائما."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:153، ط:دار المعرفة)

وفيه أيضاً:

"لأن مال ‌الأمانة ‌يتعين بالتعيين."

(كتاب الوكالة، ج:5، ص:535، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أن الثمن لو كان قائما في يد الأمين كان متعينا."

(كتاب المحاضر والسجلات، ج:6، ص:240، ط:دار الفكر)

وفیہ ایضاً:

"ولو ‌اشترى ‌قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة."

(كتاب الزکاۃ، مسائل شتى في الزکاۃ، ج:1، ص:180، ط:دار الفكر)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"اتجه رأس المال في الوقت الحاضر لتشغيله في نواحٍ من الاستثمارات غير الأرض والتجارة، وذلك عن طريق إقامة المباني أو العمارات ‌بقصد ‌الكراء، والمصانع المعدة للإنتاج، ووسائل النقل من طائرات وبواخر (سفن) وسيارات، ومزارع الأبقار والدواجن وتشترك كلها في صفة واحدة هي أنها لا تجب الزكاة في عينها وإنما في ريعها وغلتها أو أرباحها."

(القسم الاول:العبادات، الباب الرابع:الزکاۃ، ج:3، ص:1947، ط:دار الفکر)

فقط وللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں