
میں نوٹوں کے ہاروں کا کاروبارکرتا ہوں ،ہار بنانے کےلیے نئے نوٹ خریدتا ہوں ،جو میرے اداکرد ہ نوٹوں سے کم ہوتےہیں ،علمائے کرام کا کہنا ہے کہ یہ سودہے ،اورمیں کرنسی تبدیل بھی نہیں کرسکتا ،کیونکہ اس میں بہت ساری قانونی دشواریوں کا سامناہے ،جس سے نقصان بھی اٹھانا پڑتاہے ،اور بسااوقات قید بھی کرلیا جاتا ہے،تو میں اگر زیادہ نوٹ دے کر کم نوٹوں کےساتھ کو ئی ا ور شے مثلاََپین وغیرہ خرید لوں ،تو ایساکرکے اپنا کاروبار جاری رکھنا میرے لیےجائز ہوگا یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں سائل کےلیے زیادہ نوٹوں کے عوض کم نوٹ خریدنا سود ہونے کی وجہ سےجائز نہیں ہے ،تاہم اگر زیادہ نوٹوں کے عوض دوسرے ملک کی کرنسی خریدی جائے یا ایک ہی ملک کی کرنسی نوٹوں کا تبادلہ کرتے ہوئے کم نوٹوں کے ساتھ کوئی چیز پین وغیرہ فروخت کی جائے، تاکہ نقدی کے عوض برابر نقدی آجائے، اور زائد نقدی کے عوض متعین چیز آجائے، اور تو اس صورت میں ربا(سود) تحقق نہیں ہوگا ،اور سودا جائز ہو جائے گا۔
ملحوظ رہے کہ نوٹوں کا ہار پہننا پہنانا جائزنہیں ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"هولغة الزيادة. وشرعا بيع الثمن بالثمن أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ جنسا بجنس أو بغير جنس كذهب بفضة ويشترط عدم التأجيل والخيار و التماثل أي التساوي وزنا، والتقابض بالبراجم لا بالتخلية قبل الافتراقل"
(کتاب البیوع : باب الصرف، ج: 7، ص: 552، ط: رشیدیة)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"ومن باع أحد عشر درهما بعشرة دراهم ودينار جاز وكانت العشرة بمثلها والدينار بالدرهم كذا في السراج الوهاج"
"ولو اشترى ثوبا ونقرة فضة بثوب ونقرة فضة فالثوب بالثوب والفضة بالفضة فإن كان في إحدى النقرتين فضل فهو مع ثوب بذلك الثوب"
(کتاب الصرف: الباب الثاني في أحكام العقد بالنظر إلى المعقود عليه، ج: 5، ص: 77، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101221
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن