
نوٹوں کے ہار کیش کے بدلے بیچنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟
صورت ِ مسئولہ میں نوٹ لگے ہار کو کیش رقم کے بدلہ خریدنا شرعاً جائز ہے ،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ ہار میں جتنے نوٹ لگے ہوں، اسی کے بقدر یا اس سے زیادہ قیمت پر اس کو خریدا جائے اور ایک ہی مجلس میں اس پر قبضہ ہو ۔
نیز واضح رہے کہ نوٹ لگے ہار کا پہننا یا پہنانا شرعاً جائز نہیں ہے ، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔
در مختار میں ہے :
"باب الصرف
عنونه بالباب لا بالكتاب؛ لأنه من أنواع البيع (هو) لغة الزيادة. وشرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء."
(فتاوي شامي، كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:259، سعيد)
امداد الفتاوی میں ہے :
"سوال (۲۴۴۷) : جس روپے، اٹھنّی، چونّی وغیرہ میں تصویر ہے جیسا کہ ایڈورڈ ہفتم کی تصویر ہے، اس کو عورتوں کا گلے میں ڈالنا، اس کو گلے یا کمر میں رکھ کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟
الجواب: گلے میں ڈالنا درست نہیں ، اور پاس رکھ کر نماز پڑھنا درست ہے کیوں کہ اول میں ضرورت نہیں ، ثانی میں ضرورت ہے۔"
(چاندی ،پیتل ،لوہے وغیرہ کا استعمال، ج:4، ص:135، مکتبۃ دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100417
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن