بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نومولود کے کان میں موبائل سے اذان دینا


سوال

بچے کی کان میں موبائل کے ذریعے اذان دینا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا مستحب ہے، کلماتِ اذان سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے، گویا بچہ کو شیطان کے اثر سے بچانا مقصود ہے، اور اسی طرح   کلماتِ اذان و اقامت توحیدِ خالص اور ایمانیات کے اقرار کے ساتھ  ساتھ اسلام کے سب سے اہم رکن نماز کی دعوت پر مشتمل ہیں،  بچہ کے دنیا میں  آنے کے بعد  اس کے پردۂ سماعت سے ان کلمات کا گزارنا دراصل اس کے دل کی گہرائیوں میں ایمان وعمل کے جذبات جاگزین کرنے میں بہت مؤثر ہے، اور یہ فضیلت اور حکمت ریکارڈنگ  یا موبائل کے ذریعہ کسی سے اذان دلوانے  سے حاصل نہیں ہوگی، اس لیے کسی  نومولود کے کان میں اذان واقامت خود دینا چاہیے یا کسی نیک شخص سے دلوانی چاہیے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ:  جب بچہ پیدا ہو تو نہلانے کے بعد بچہ کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائیں  اور قبلہ رُخ ہوکر  پہلے بچے کے دائیں کان میں اذان اور پھر  بائیں کان میں اقامت کہیں ۔ "حي علی الصلاة" اور  "حي علی الفلاح"  کہتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ بھی پھیریں، البتہ دورانِ اذان کانوں میں انگلیاں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔

بچے کے کان میں اذان دینے کا سنت اور متوارث طریقہ  یہی ہے، اور عبادات کے باب میں احتیاط کا تقاضہ  یہی ہے کہ حتی الامکان اس کی اصل شکل کو باقی رکھا جائے، چنانچہ موبائل فون کال کے ذریعہ بچہ کے کان میں اذان دینے سے یہ سنت طریقہ جو نسل در نسل چلا آرہا ہے فوت ہوجائے گا، اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، اگر کسی شدیدعذر  کی وجہ سے بچے کے کان میں براہِ راست فوری طور پر اذان نہ دی جاسکتی ہو تو موبائل فون کال کے ذریعہ اذان دینے کے بجائے عذر کے زائل ہونے کا انتظار کرلیا جائے اور عذر زائل ہوتے ہی براہِ راست بچے کے کان میں اذان دے دی جائے، اس لیے کہ جو برکت اور اثرات براہِ راست بچے کے کان میں اذان دینے میں ہے وہ موبائل فون کال کے ذریعہ اذان دینے میں نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 385):

"(لا) يسن (لغيرها) كعيد.

 (قوله: لايسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم ..."الخ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 387):

"(ويلتفت فيه) وكذا فيها مطلقاً، وقيل: إن المحل متسعاً (يميناً ويساراً) فقط؛ لئلايستدبر القبلة (بصلاة وفلاح) ولو وحده أو لمولود؛ لأنه سنة الأذان مطلقاً.

 (قوله: ولو وحده إلخ) أشار به إلى رد قول الحلواني: إنه لايلتفت لعدم الحاجة إليه ح. وفي البحر عن السراج: أنه من سنن الأذان، فلايخل المنفرد بشيء منها، حتى قالوا في الذي يؤذن للمولود: ينبغي أن يحول. (قوله: مطلقاً) للمنفرد وغيره والمولود وغيره ط". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے