بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 صفر 1448ھ 06 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نوکری میں کام کرنے کے بغیر اگر تنخواہ مل جائے تو کیا یہ تنخواہ حلال ہے


سوال

اگر نوکری لگ جائے لیکن حاکم کام لیۓ بنا تنخواہ دے تو کیا تنخواہ حلال ہے یا حرام ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً کسی کے ہاں طے شدہ اوقات کے مطابق ملازمت کرنے والے کو "اجیرِ خاص" کہتے ہیں، جس کی تنخواہ اس کے مقررہ وقت کے عوض ہوتی ہے۔ جب ملازم مقررہ وقت میں اپنے آپ کو مالک (یا ادارے) کے سپرد کر دے اور کام کے لیے تیار رہے (جسے فقہ میں 'تسلیمِ نفس' کہا جاتا ہے)، تو وہ پوری تنخواہ کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اس سے کام نہ لینا مالک یا ادارے کا اپنا انتظامی فیصلہ ہے، جس سے ملازم کی کمائی کے حلال ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ یہ شرط ہے کہ ملازم ڈیوٹی کے اوقات کا پابند رہے اور مالک کی اجازت کے بغیر کوئی اپنا ذاتی کام یا دوسری نوکری نہ کرے۔

لہٰذا مسئولہ صورت میں، ملازم کے لیے مذکورہ تنخواہ بالکل حلال اور جائز ہے۔

 

شرح مختصر الکرخی میں ہے:

"قال أبو الحسن: الأجير من يستحق الأجر بالوقت دون العمل، كرجل استأجر رجلا ليخدمه شهرا بخمسة دراهم، أو ليقصر(1) معه، أو ليخيط معه، أو ليعمل عملا من الأعمال.وإنما يسمى خاصا، لأنه لا يصح أن يعمل في المدة إلا لمن استأجره، وحده: الذي يستحق البدل بتسليم نفسه في المدة، عمل أو لم يعمل."

(كتاب الإجارات، باب ضمان الأجير الخاص، ج:5، ص:171، ط:دار أسفار - الكويت)

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

"الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة۔"

(الكتاب الثاني: في الإجارات،الباب الأول في بيان الضوابط العمومية، ص:82، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل.أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة، فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلك البعض من الأجرة.(انظر المادة 470) مثال ذلك كما لو آجر إنسان نفسه من آخر ليخدمه سنة على أجر معين فخدمه ستة أشهر ثم ترك خدمته وسافر إلى بلاد أخرى ثم عاد بعد تمام السنة وطلب من مخدومه أجر ستة الأشهر التي خدمه فيها؛ فله ذلك وليس لمخدومه أن يمنعه منها بحجة أنه لم يقض المدة التي استأجره ليخدمه فيها.(البهجة) .وإنما لا يشترط عمل الأجير الخاص بالفعل كما ورد في هذه المادة؛ لأنه لما كانت منافع الأجير مدة الإجارة مستحقة للمستأجر وتلك المنافع قد تهيئت والأجرة مقابل المنافع، فالمستأجر إذا قصر في استعمال الأجير ولم يكن للأجير مانع حسي عن العمل كمرض ومطر فللأجير أخذ الأجرة ولو لم يعمل (الزيلعي)"

(الكتاب الثاني: في الإجارات،الباب الأول في بيان الضوابط العمومية، ج:1، ص:458، ط: دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801102630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں