بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نوکری حاصل کرنے کے لیے سیکرٹری کو پیسے دینا کیسا ہے؟


سوال

مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ پہلے حکومت کی طرف سے یہ قانون تھا کہ والد کے ریٹائر ہونے کے بعد  اس پوسٹ پر اس کا بیٹا لگتا تھا، اور اب وہ قانون ختم ہوگیا ہے، لیکن اگر سیکرٹری کو کچھ پیسے دے دیے جائیں تو وہ پھر بھی بیٹے ہی کو لگاتے ہیں۔

یاد رہےیہ  پوسٹ بھی کوئی بڑی پوسٹ نہیں ہے جس کی اہلیت کے لیے بہت شرائط ہوں بلکہ وہ کام ہر کوئی کر سکتا ہے۔ 

1۔سوال یہ ہے کہ کیا نوکری حاصل کرنے کے لیےپیسے دینا جائز ہیں؟ 

2۔اسی طرح  اگر یہ آدمی پابندی سے اپنی ڈیوٹی کرتا رہے تو کیا اس کے لیے تنخواہ لینا جائز ہے؟ 

3۔نیز کیا سیکرٹری کے لیے جائز ہے کہ والد کے ریٹائر ہونے کے بعد بیٹے کو وہ پوسٹ بغیر کسی  حکومتی کاروائی کے (امتحان، انٹرویو کت بغیر) کے پیسوں کے بدلے دےدے؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں سائل کا نوکری حاصل کرنے کے لیے سیکرٹری کو پیسے دینا  رشوت ہے، اور حدیث میں رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں،  اور رشوت کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنا ناجائز ہے، البتہ  اگر اہلیت و دیانت داری کے باوجود نوکری نہ مل رہی ہو تو  جائز سفارش (سورس)  جائز طریقے سے کروانے کی اجازت ہے،  لیکن حق ثابت ہونے سے پہلے اسے حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا بہرحال ناجائز ہے، اس لیے متبادل کوئی حلال ذریعہ آمدن تلاش کرنا چاہیے۔

2۔البتہ اگر کسی شخص نے اس ممانعت کے باوجود رشوت دے کر ملازمت حاصل کرلی ہے، تو  اب اس شخص  کی تنخواہ حلال ہونے کا مدار اس بات پر ہوگا کہ اگر وہ اس ملازمت کی شرائط و کوائف پر پورا اترتاہے اور امانت و دیانت کے ساتھ متعلقہ ذمہ داریاں بھی ادا کرے  تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی؛ لہذا اب اس گناہ کا تدارک اس طرح ہوگا کہ مذکورہ آدمی  پہلےتوبہ استغفار کرےاور پھر اپنے متعلقہ تمام امور پوری دیانت داری کے ساتھ  انجام دے ۔

3۔سیکرٹری کا پیسے لے کربغیر حکومتی کاروائی کے سائل کو نوکری دینا بھی رشوت والا معاملہ ہونے  کی وجہ سے ناجائز ہے، جیسا کہ شق اول میں ذکر کردیا گیا۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي".

"ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔"

 (‌‌‌‌‌‌كتاب الإمارة والقضاء،باب رزق الولاة وهداياهم،الفصل الثاني، ج: 2، ص:  1108، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں