
میں پراپرٹی کی خریدو فروخت کا کام کرتا ہوں، ابھی میرا پروجیکٹ یہ ہے کہ ایک سوسائٹی میں بلڈر کو پلاٹ مالکان سے ڈویلپمنٹ چارجز لے کر ان مالکان کوNOCاور قبضہ دینا ہے، ڈیولپمنٹ چارجز فی پلاٹ چھ لاکھ روپے مقرر ہیں ۔ لیکن تمام پلاٹ مالکان فوری طور پر رقم نہیں دے سکتے، جب کہ دوسری طرف بلڈر کو رقم کی ضرورت ہے، اس صورتِ حال میں بلڈر مجھ سے یہ معاملہ کرتا ہے کہ میں اسے فی پلاٹ دو لاکھ روپے ڈویلپمنٹ چارجز دے دوں اور جب پلاٹ مالکان NOCاور قبضہ لینا چاہیں تو ان کو چھ لاکھ تک کی رقم لے کر NOCدے دوں ۔
اس صورت میں مذکورہ طریقہ کے مطابق بلڈر کو دو لاکھ روپے دے کر پلاٹ مالکان سے چھ لاکھ تک کی رقم لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اس طرح کے معاملہ کی شرعا کیا حیثیت ہے ؟
یہ بات واضح رہے کہ بلڈر کو دو لاکھ روپے فی پلاٹ جب میں ادا کروں گا تو اس کے بعد پلاٹ مالکان کو NOC اور قبضہ دینا میرے ذمہ ہو جائے گا، چنانچہ میں پلاٹ مالکان سے چھ لاکھ روپے لے کر انہیں NOC
اور قبضہ دوں گا۔
وضاحت: بلڈر نے پلاٹ فروخت کیے ہیں اورNOCجاری کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے، بلڈر نے مجھے کہا کہ آپ مجھے فی پلاٹ 2 لاکھ روپے ڈویلپمنٹ چارجز دے دو میں آپ کو NOCسرٹیفیکیٹ کی اوپن پرچی دے دوں گا، ہر مالک پلاٹ سے آپ مقررہ رقم 6 لاکھ یا اس سے کم جو بھی آپ کو مناسب لگے لے کر اس مالک پلاٹ کو NOCجاری کر دینا۔میں آپ سے وصول کردہ 2 لاکھ روپے کے بعد مزید رقم کا تقاضہ نہیں کروں گا، مالک پلاٹ سے جو بھی رقم آپ وصول کریں گے، وہ آپ کی ہو گی۔
دو لاکھ کے بدلے صرف مجھ پر NOCجاری کرنے کا اختیار بیچا جا رہا ہے، باقی ڈویلپمنٹ کے کام سیورج لائن،بجلی کونیکشن اور روڈبناناوغیرہ میں سے بعض تو بلڈر کر چکاہے اور باقی جوکام رہ گیاہے وہ بھی بلڈر ہی کر کے دے گا، اس میں میرے ذمہ کچھ بھی نہیں ہوگا ۔
صورتِ مسئولہ میں مقرر شدہ ڈویلپمنٹ چارجز 6 لاکھ روپے لے کر پلاٹ مالکان کو NOCاور قبضہ دینا بلڈر اور پلاٹ مالکان کے درمیان طے شدہ معاملہ ہے جو پلاٹس کی خرید دوفروخت کا ایک حصہ ہے؛ نیز NOCاور قبضہ کی وصولی پلاٹ مالکان کا ثابت شدہ حق ہے جو صرف ثمن کے کچھ حصہ یعنی ڈویلپمنٹ چارجز کی وصولی کے لیے روکا گیاہے؛ لہذایسی صورت میں بلڈر کا سائل(پراپرٹی ڈیلر) سے 2 لاکھ روپے لے کر NOCاورقبضہ دینے کا اختیار سائل کو فروخت کر دینے کا معاملہ کرنا اولا ً تو غیر کے حق کو فروخت کرنےکی وجہ سےناجائز ہے، نیز حقِ مجرد کی بیع ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے۔
لہذا مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر سائل کے لیے اس معاملہ سے اجتناب ضروری ہے ۔البتہ بلڈرکو دو لاکھ دے کر پلاٹ والوں سے دولاکھ لینا جائز ہو گا۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة 96) لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، ج:1، ص:96، ط: دارالجيل)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.
مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها."
(كتاب البيوع، مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة، ج:4، ص:518، ط: سعيد:
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره."
(كتاب المداينات، ج:2، ص:226، ط: دار المعرفة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101981
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن