
میری بیٹی کی عمر 13 سال ہے، میں نے اپنی بیوی کو پانچ سال قبل خلع (طلاق) دی تھی، اس وقت کورٹ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بیٹی ہفتہ میں 3 دن والد کے پاس رہے گی، جب کہ بقیہ ایام اپنی والدہ کے ہاں رہے گی، اب چار ماہ قبل میری سابقہ بیوی نے ایک دوسرے مرد سے شادی کی ہے، جو کہ میری بیٹی کا نامحرم ہے، اب اس گھر میں میری بیٹی کا کوئی محرم مرد موجود نہیں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری بیٹی اب بھی میری سابقہ بیوی کی پرورش میں رہے گی یا مجھے پرورش کا حق حاصل ہوگا؟
وضاحت: اس مرد کا ایک بیٹا سترہ سال کا ہے، جو ان کے ساتھ اس گھر میں رہتا ہے اور ایک پندرہ سال کی بیٹی بھی ہے۔
واضح رہے کہ میاں بیوی کی طلاق اور علیحدگی کی صورت میں بیٹی نو سال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہتی ہے اس دوران بچی کے تمام اخراجات نان نفقہ والد کے ذمہ ہوتاہے، نو سال کی عمر کے بعد بچی کی پرورش اور تربیت کا حق شرعاً والد کو منتقل ہوجاتا ہے، اگر والد بچی کو اپنے پاس اپنی پرورش میں رکھنا چاہتا ہے، تو رکھ سکتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:566، ط:سعيد)
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب بچی کی عمر تیرہ برس ہوگئی ہے، تو سائل کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ بچی کو اپنی پرورش میں اپنے پاس رکھے اور اب جب کہ بیٹی کی والدہ نے بیٹی کے غیر محرم سے شادی کرلی ہے، تو اب والدہ کو مذکورہ بچی اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں،سائل (والد) بچی کو اپنے پاس رکھنے کا زیادہ حقدار ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102122
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن