
ہمارے گاؤں میں ایک لڑکا جو کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا تھا ،اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی مسلمان ہوئی ہے، ہمارے گاؤں کی کچھ عورتیں اس مرد سے پردہ نہیں کرتیں اور اس کی بیوی بھی ان عورتوں کے مردوں سے پردہ نہیں کرتی، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
دین ِاسلام میں مسلمان مرد و عورت پر نامحرم لوگوں سے پردہ کرنا ضروری ہے،پردہ نہ کرنے والے گناہگار ہے اور اس کے متعلق شریعتِ مطہرہ میں وعیدات وارد ہوئیں ہیں،لہذا صورت مسئولہ میں نو مسلم مرد وعورت پر اسلام کے دیگر احکام پر عمل کرنے کی طرح پردہ کے حکم پر عمل کرنا بھی ضروری ہے،ان کے متعلقین کو چاہئے کہ وہ حکمت کےساتھ ان دونوں کو پردہ کے احکام بتائیں اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کریں،پردہ نہ کرنے پر احادیث میں مذکور وعیدات ان کو بتائیں۔
ارشادِ خداوندی ہے:
"{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ...الآیۃ.}" [النور: 30، 31]
ترجمہ:
’’ آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک الله تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں ، مگر جو اس (موقع زینت) میں سے (غالباً) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھا کریں ۔ــــــ‘‘(بیان القرآن )
حدیث شریف میں ہے:
"وعن الحسن مرسلا قال: بلغني أن رسول صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله الناظر والمنظور إليه."
(مشکاۃ المفاتیح،كتاب النكاح، باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، الفصل الثالث، ج:2، ص:991، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)
"ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی لعنت دیکھنے والےپر اور اس پر جس کو دیکھا ہے۔(مظاہر حق)"
حدیث شریف میں ہے:
"عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إياكم والدخول على النساء»، فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو، قال: «الحمو الموت» وفي الباب عن عمر، وجابر، وعمرو بن العاص.: حديث عقبة بن عامر حديث حسن صحيح، وإنما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان»."
(الجامع السنن للترمذی، ابواب الرضاع، باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات)
"ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:عورتوں کے پاس داخل ہونے سے پرہیز کرو ، ایک انصاری شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ حمو (یعنی شوہر کا باپ، بھائی اور عزیز واقارب) کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا :’’حمو‘‘ تو موت ہے۔ اس باب میں حضرت عمر اور جابر، عمرو بن عاص سے بھی روایت ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر کی حدیث حسن صحیح ہے، عورتوں کے پاس جانے سے ممانعت کا مطلب اسی طرح ہے جیسے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :جب کوئی شخص کسی تنہا عورت کے پاس ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔"
حدیث میں ہے:
"المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان".
(مشکاۃ المصابیح،الفصل الثالث، ج: 2، ص: 269، ط: قدیمی)
ترجمہ: عورت چھپانے کی چیز ہے، چناں چہ جب وہ (گھر سے) نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاک میں رکھتاہے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101571
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن