
کیا نو، دس محرم کو حلیم پکانا جائز ہے یا نہیں؟
نو، دس محرم کو حلیم بنانا چوں کہ اہلِ باطل کا شعار ہے، اس لیے ان دنوں میں حلیم بنانے سے مکمل اجتناب کیا جائے،نیز غیر اللہ کے نام پر حلیم بنانا مطلقاً (سال کے کسی دن) ناجائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ
(سورة المائدة: 3)
ترجمہ: تم پر حرام کیے گئے مردار اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو (بیان القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم. رواه أحمد وأبو داود."
(كتاب اللباس، الفصل الثاني، ج:2، ص:1246، ط::المكتب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100283
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن