بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھنے کا حکم


سوال

نماز میں سورت کی تلاوت میں اگر ایک آیت کی جگہ دوسری آیت کی تلاوت کرے، تو نماز ہوگی؟

جواب

بصورتِ مسئولہ نماز میں قراءت کےدوران ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھنا یعنی بیچ میں ایک یا دو آیتیں چھوڑ دیں اور اس کے چھوڑنے سے معنی کے اندر ایسی خرابی نہ آئے جس سے معنٰی بالکل فاسد ہوجاتاہے تو ایسی صورت میں نماز صحیح ہے اس نماز کو دوبارہ پڑھنا یا سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہے، البتہ چھوٹی ہوئی آیات یاد ہوتے ہوئے ایسا عمل کرنا کراہت سے خالی نہیں۔

اور اگر دوسری آیت بلاوقف ملائے اور اس سے معنی میں تغیر فاحش ہوجائے تو اس صورت میں نماز فاسد ہوجائےگی۔

بہتر تھا کہ آپ آیت کی تعیین کے ساتھ سوال ارسال کرتے، کیوں کہ بعض اوقات الفاظ تبدیل ہوجانے سے بھی معنٰی فاسد  نہیں ہوتا، اور بعض اوقات حرکات کی تبدیلی سے ہی معنٰی اتنا تبدیل ہوجاتا ہے کہ نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفًا تامًّا ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لاتفسد كما لو قرأ: {والعصر - إن الإنسان} [العصر: 1 - 2] ثم قال: {إن الأبرار لفي نعيم} [الانفطار: 13] ، أو قرأ: {والتين} [التين: 1] إلى قوله: {وهذا البلد الأمين} [التين: 3] ووقف، ثم قرأ: {لقد خلقنا الإنسان في كبد} [البلد: 4] أو قرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [البينة: 7] ووقف ثم قال: {أولئك هم شر البرية} [البينة: 6] لاتفسد. أما إذا لم يقف ووصل - إن لم يغير المعنى - نحو أن يقرأ: {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] فلهم الحسنى مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد. أما إذا غير المعنى بأن قرأ " إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب " إلى قوله " خالدين فيها أولئك هم خير البرية " تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح، هكذا في الخلاصة."

( كتاب الصلوة، الباب الرابع فى صفة الصلوة، الفصل الخامس فى زلة القارى،ج:1،ص:80، ط:مکتبة رشیدية)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"م:وإذا انتقل من آیة  إلى آیة أخرى  من سورة أخرى أو من ھذہ السورة  و بینھما آیات یکره."

(کتاب الصلوۃ،باب صفة الصلوة، ج:1،ص:452، ط: إدارة القرآن )

 فقط والله اعلم

 


فتوی نمبر : 144205200531

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں