
شادی کے ساتویں دن بیوی اپنے ماں باپ کے گھر جارہی تھی جو بعض کے ہاں ایک رواج ہے۔ بیوی نے شوہر سے اجازت طلب کی تو شوہر نے کہا کہ ابھی ٹھہر جاؤ پھر چلی جانا۔ پھر بیوی نے شوہر سے جانے کی اجازت طلب کی تو شوہر نے اجازت دے دی، اس وقت دونوں گپ شپ لگا رہے تھے اور بیوی شوہر کی گود میں تھی، نہ شوہر غصے میں تھا اور نہ ہی طلاق کا کوئی مذاکرہ تھا، یعنی بالکل نارمل حالت تھی۔ اسی دوران شوہر نے بیوی کو یہ کہہ دیا کہ" 3، 2، 1 میں چلی جاؤ۔"
اب سوال یہ کہ اس سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں اگر ہوگئی تو کتنی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہر کی نیت " 3، 2، 1 میں چلی جاؤ۔"سے طلاق دینے کی نہیں تھی تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة(قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا، ولو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، ومن أنه لو قال أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء ولو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلا فوقع."
(كتاب الطلاق،ج3،ص287،ط؛سعيد)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: اخرجي اذهبي قومي) لحاجة أو لأني طلقتك، قيد باقتصاره على اذهبي؛ لأنه لو قال: اذهبي فبيعي ثوبك لا يقع، وإن نوى، ولو قال: اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى،كذا في الخلاصة، ولو قال: اذهبي فتزوجي، وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء؛ لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق،ج: 3، ص: 326، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703100868
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن