بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نیتِ طلاق کے بغیر ”فیصلہ دے رہا ہوں“ کہنے کا حکم


سوال

میری بیوی سے میری کئی بار لڑائی ہوئی تھی،اور وہ اپنے گھر چلی جاتی پھر واپس آجاتی ،میری شادی کو سات سال ہوگئے ہیں،ایک بار میں نے بیوی کے بھائی کو فون کیا اور کہا کہاپنی بہن کو لے جاؤ،میں اس کو فیصلہ دے رہا ہوں،یہ جملہ میں نے تین بار کہا اس کے بعد وہ اس کو لے کر چلے گئے اور ایک بچے کو بھی لے کر چلےگئے ،اور یہ جملہ میں نے ڈرانے اور دھمکانے کے لیے کہا تھا،تا کہ یہ بھائی اپنی بہن کو سمجھائے،میری طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔

میر سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کےمذکورہ الفاظ  کہ اپنی بہن کو لے جاؤ،میں اس کو فیصلہ دے رہا ہوں،ان الفاظ سے اگر سائل کی طلاق دینےکی کوئی نیت نہ تھی،تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال... (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة... (و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة... (البائن إن نواها أو الثنتين)... (وثلاث إن نواه)."

(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب. بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق."

(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، ج: 3، ص: 296/304، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100358

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں