بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر رقم پر زکات کا حکم


سوال

 شوہر کمائی  کے سارے پیسے بیوی کے حوالے کر دے اور بیٹا بھی، اور اُس سے پورا گھر چلانے کے بعد اگر اتنا مال  جمع ہو جائے کہ  ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو کیا زکات فرض ہوجاتی ہے؟اگر زکات فرض ہوجاتی ہے تو کس پر فرض ہوتی ہے؟بیوی پر؟ یاشوہر پر؟یابیٹے پر؟

وضاحت:گھر کے خرچ بچت کی مالک بیوی (ماں ) ہے، شوہر اور بیٹا بس کما کر دیتے ہیں، باقی گھر کا پورا نظام بیوی کے ہاتھ میں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں گھر خرچ کی مذکورہ رقم کی دو حیثیتیں ہیں:

۱۔اگر شوہر اور  بیٹا ،بیوی(ماں)  کو کمائی کی رقم دے کر  مالک بنادیتے ہیں  اور یوں کہتے ہیں:تم  مالک ہو، تو ایسی صورت میں اگر گھر خرچ میں سے باقی بچی ہوئی  رقم، جو بیوی (ماں) کی ملکیت  میں ہے، وہ    چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ) تک پہنچ جائے تو سال گزرنے پر اُس کی زکات بیوی(ماں) کے ذمہ لازم ہوگی۔

۲۔اور اگر شوہر اور بیٹا، بیوی(ماں) کو کمائی کی رقم دے کر  مالک نہیں بناتے  تو ایسی صورت میں گھر خرچ میں سے  شوہر اور بیٹے میں سے جس کی بھی دی ہوئی رقم  بچ جائے   وہ اُسی  کی ملکیت ہے جو اُسے واپس کرنا ضروری ہے۔اور واپس کردینے کی صورت میں   وہ رقم شوہر اور بیٹے میں سے جس کی بھی ملکیت میں چاندی کے نصاب(ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچ جائے تو  سال گزرنے پر  اُس کی زکات اُسی کے ذمہ لازم ہوگی۔

"الفتاوى الهندية"میں ہے:

 "(وأما شروط وجوبها) ... (ومنها: كون المال نصاباً) فلا تجب في أقلّ منه، هكذا في العينيّ ... ومنها: الملك التامّ، وهو ما اجتمع فيه الملك واليد". 

(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسسيرها ... إلخ،ج:1، ص:171و172، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701102201

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں