بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نصابِ کے برابر مالیت کی کتابیں موجود ہونے کی صورت میں زکاۃ لینے کا حکم


سوال

الف۔ اگر کسی طالبِ علم کے پاس درسی و خارجی کتابیں اتنی ہوں کہ ان کی قیمت نصابِ زکاۃ کو پہنچتی ہو، حالانکہ وہ مصروفیات کی وجہ سے سال بھر انہیں استعمال نہیں کر پاتا، اور یہ کتابیں مطالعہ کی نیت سے خریدی گئی ہوں، تو کیا ایسے طالبِ علم کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے؟

نیز اگر ان کتابوں پر زکاۃ لازم ہو تو نصاب کے تعیّن کے لیے کون سی قیمت معتبر ہوگی؟  خرید کی قیمت یا وہ قیمت جس پر مکتبہ والا انہیں دوبارہ خریدے گا؟ اور کیا سال کے دوران شامل ہونے والی نئی کتابیں بھی شمار کی جائیں گی یا نہیں؟

ب ۔ گھر میں موجود وہ کمپیوٹر جو پورا سال استعمال نہیں ہوتا، حالانکہ صحیح حالت میں ہے، کیا اسے بھی  نصاب زکاۃ میں شمار کیا جائے گا، جبکہ پہلے استعمال ہوتا تھا مگر گھر سے دور رہنے کی وجہ سے اب استعمال میں نہیں آتا؟

ج ۔ سفر کی حالت میں زکاۃ لینا جائز ہو تو کون سا سفر مراد ہے:سفرِ شرعی یا سفرِ عرفی؟

جواب

الف، ب۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ کتابیں مطالعے کے لیے اور کمپیوٹر استعمال کے لیے ہو ،تو ان  پر زکاۃ لازم نہیں ہے ۔  اگر طالبِ علم سال بھر گھر سے دوری یا کسی اور عذر کی وجہ سے  انہیں استعمال نہ کر سکا ہو،تب بھی ایسا طالب علم زکاۃ لے سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس ضرورت سے زائد  ایسا مال یا سامان موجود نہ ہو جس کی موجودہ مالیت(مارکیٹ ویلیو) نصابِ زکاۃ (ساڑھے سات تولہ  سونااور چاندی کانصاب ساڑھے باون تولہ چاندی) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔

ج۔ زکاۃ کے مصارف میں "ابنُ السبیل "یعنی مسافر سے  مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ضرورت سے زائد ایسا مال وغیرہ  موجود ہو جس کی مالیت نصابِ زکاۃ تک پہنچتی ہو، لیکن وہ  اپنے وطن سے دور ایسے مقام پر ہو جہاں اپنے مال سے نفع اٹھانے پر قادر نہ ہو۔ اسی طرح وہ شخص بھی ابن السبیل کے حکم میں ہے جو اپنے وطن میں موجود ہو مگر کسی وجہ سے اپنے مال سے فائدہ اٹھانے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔  ایسا شخص بقدرِ ضرورت زکاۃ کی رقم  لے سکتا ہے۔

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

"يعطي من الزكاة من له مسكن وخدم وما يتأثث به في منزله وفرس وسلاح وثياب البدن ‌وكتب ‌العلم ‌إن ‌كان ‌من ‌أهله ما لم يكن له فضل عن ذلك مائتا درهم."

(‌‌كتاب الزكاة، ‌‌باب من يوضع فيه الصدقة، ج : 1، ص : 302، ط : دار الكتب العلمية)

 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"فقال: لا بأس بأن يعطى من الزكاة من له مسكن وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله فإن كان له فضل عن ذلك ما يبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة."

(کتاب الزکاۃ، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ج : 2، ص : 48، ط : دار الكتب العلمية)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"قال: (والمنقطع عن ماله) وهو ابن السبيل لأنه لا يتوصل إلى الانتفاع بماله فكان كالفقير، فهو فقير حيث هو غني حيث ماله، وإن كانت زوجته عنده فلها نفقة الفقراء، وإن كانت حيث ماله فلها نفقة الأغنياء."

(‌‌كتاب الزكاة، ‌‌باب مصارف الزكاة، ج : 1، ص : 119، ط : دار الكتب العلمية)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(ومنها ‌ابن ‌السبيل) ، وهو الغريب المنقطع عن ماله كذا في البدائع. جاز الأخذ من ‌الزكاة قدر حاجته، ولم يحل له أن يأخذ أكثر من حاجته وألحق به كل من هو غائب عن ماله، وإن كان في بلده؛ لأن الحاجة هي المعتبرة ثم لا يلزمه أن يتصدق بما فضل في يده عند قدرته على ماله كالفقير إذا استغنى كذا في التبيين. والاستقراض لابن السبيل خير من قبول الصدقة كذا في الظهيرية."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج : 1، ص : 188، ط : دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وابن السبيل) هو المسافر سمي به للزومه الطريق زيلعي (قوله: من له مال لا معه) أي سواء كان هو في غير وطنه أو في وطنه وله ديون لا يقدر على أخذها كما في النهر عن النقاية لكن الزيلعي جعل الثاني ملحقا به حيث قال: وألحق به كل من هو غائب عن ماله وإن كان في بلده؛ لأن الحاجة هي المعتبرة وقد وجدت؛ لأنه فقير يدا وإن كان غنيا ظاهرا. اهـ.

وتبعه في الدرر والفتح وهو ظاهر كلام الشارح وقال في الفتح أيضا: ولا يحل له أي لابن السبيل أن يأخذ أكثر من حاجته والأولى له أن يستقرض إن قدر ولا يلزمه ذلك لجواز عجزه عن الأداء ولا يلزمه التصدقبما فضل في يده عند قدرته على ماله كالفقير إذا استغنى والمكاتب إذا عجز. وعندهما من مال الزكاة لا يلزمها التصدق اهـ.

قلت: وهذا بخلاف الفقير فإنه يحل له أن يأخذ أكثر من حاجته وبهذا فارق ابن السبيل كما أفاده في الذخيرة (قوله: ومنه ما لو كان ماله مؤجلا) أي إذا احتاج إلى النفقة له أخذ الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل نهر عن الخانية."

( ‌‌كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج : 2، ص : 343، ط : سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں