
اگر تصویر نقاب وعبایا میں ہوں تو کیا اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرسکتے ہیں خاص طور پر اگر اس سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر صرف خواتین شامل ہوں؟
واضح رہے کہ جان دار کی تصویر کھینچنا، بنانااور بنوانا سب ناجائز اور حرام ہے، اس پر حدیثِ مبارک میں بہت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہٰذاعورت كے لیے نقاب کر کے بھی تصویر کھینچوانا یا بنوانا جائز نہیں ، کیوں کہ نیز نقاب کے ساتھ عورت کی تصویر سے بھی جاندار کی حکایت ہوتی ہے، اس لیے بلا ضرورت نقاب کے ساتھ بھی تصویر بنوانے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں اگر چہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر صرف خواتین شامل ہوں ۔
تصویر کی حرمت کے بارے میں مسلم شریف کی احادیثِ صحیحہ ملاحظہ ہوں:
"وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وزهير بن حرب، جميعا عن ابن عيينة - واللفظ لزهير - حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، أنه سمع عائشة، تقول: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد سترت سهوة لي بقرام فيه تماثيل، فلما رآه هتكه وتلون وجهه وقال: «يا عائشة أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة، الذين يضاهون بخلق الله» قالت عائشة: «فقطعناه فجعلنا منه وسادة أو وسادتين»."
(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، 3/ 1668، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: "ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے ایک طاق یا مچان کو اپنے ایک پردے سے ڈھانکا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے اس کو کاٹ کر ایک تکیہ یا دو تکیے بنائے۔"
"عن نافع، أن ابن عمر أخبره، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم."
(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، 3/ 1669، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:" سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا زندہ کرو ان کو جن کو تم نے بنایا۔"
"عن مسروق ، عن عبد الله ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون."
(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، 3/ 1670، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: "سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔"
البحر الرائق میں ہے:
"وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج:2 ص: 29 ط: دار الكتب الإسلامي)
حاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره،"
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1 ص: 647 ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144602100375
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن