بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز باجماعت فوت ہوجانے کے خوف سے تیمم کرنا


سوال

جب ہم تبلیغی اجتماع میں جاتے ہیں، تو وہاں بہت رش ہوتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اگر نماز کھڑی ہو جائے اور ایک دو منٹ باقی ہو اور آپ وضو کے لیے جائیں اور وہاں بہت رش ہو، وہاں وضو کرنے میں کم از کم 10 منٹ لگ سکتے ہیں، تو کیا اس صورت میں پانی کی موجودگی میں تیمم کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں وضو میں زیادہ وقت  لگنے کی وجہ سے تیمم کر کے جماعت میں شامل ہو نے سے نماز ادا نہیں ہو گی، لہذا جماعت کے وقت سے پہلے ہی وضو کر کے نماز کے لیے تیار رہیں؛ تاکہ بعد میں رش کی وجہ سے جماعت نہ فوت ہو۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(لا) يتيمم (لفوت جمعة ووقت) ولو وترا لفواتها إلى بدل".

 وفي الرد:

"قوله (لفواتها) أي هذه المذكورات إلى بدل؛ فبدل الوقتيات والوتر القضاء، وبدل الجمعة الظهر".

(‌‌‌‌كتاب الطهارة، باب التيمم، 1/ 246، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100872

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں