
میرے عقدِ نکاح ہوتے وقت لڑکی والوں نے مجھ سے حق مہر کے علاوہ دو تولہ سونا اور ایک فلیٹ کا مطالبہ کیا کہ آپ اس لڑکی کو دیں گے ،اور مطالبہ اس لیے کیا کہ اگر اس لڑکی سے شادی کرنی ہے تو یہ دینا پڑے گا ورنہ شادی ممکن نہیں ہے، اس وقت میں یہ مطالبات پورے کرنے کےلیے تیار نہیں تھا ،لیکن میں نے والد کے کہنے پر دو تولہ سونا دے دیا، اور پھر لڑکی کے مطالبہ کرنے پر طلاق دے دی ،دو تولہ سونے کے علاؤہ حق مہر میں نے ادا کر دیا تھا ،اب مالی طور پر میری حالت کمزور ہےاور میرے پاس کچھ نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو دو تو لہ سونا لڑکی کو دیا تھا ،وہ واپس لینا چاہتا ہو ں،تو کیا وہ واپس لے سکتا ہوں؟
وضاحت :دو تولہ سونا میں نے شرط ہونے کی وجہ سے بطور ملکیت ادا کیا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر حقیقت یہی ہے کہ دو تولہ سونا مہر کا حصہ نہیں تھا، بلکہ لڑکی والوں نے نکاح کے لیے بطورِ شرط اس کا مطالبہ کیا تھا، اور آپ نے اسی شرط کو پورا کرتے ہوئے وہ سونا لڑکی کی ملکیت میں دے دیا تھا، تو شرعی اعتبار سے یہ دو تولہ سونا مہرِ مقرر پر زیادتی کے حکم میں ہوگا، کیونکہ نکاح کے وقت اسے لازم شرط کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر دو تولہ سونا لڑکی کی ملکیت میں دے کر اس کے قبضے میں دے دیا گیا تھا، تو طلاق واقع ہوجانے یا بعد میں مالی تنگی پیش آنے کی وجہ سے آپ کو وہ سونا واپس لینے کا حق حاصل نہیں ہے، ہاں اگر لڑکی اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنے مذکورہ کل حق مہر میں سے کچھ حصہ سائل کو واپس کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج. هذا إذا قبلت المرأة الزيادة سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو من ولي، كذا في النهر الفائق."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل السابع في الزيادة في المهر والحط عنه فيما يزيد وينقص، ج : 1، ص : 312، ط : دار الفكر)
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:
"فقال الحنفية: إذا زاد الزوج الرشيد أو ولي الصغير (الأب أو الجد) على المهر المسمى شيئاً بعد تمام العقد وتراضي الطرفين على المهر، لزمت الزيادة بالوطء أو بالموت عن الزوجة،."
(المهر وأحكامه ، الزيادة أو الحط من المهر، ج:9، ص:6795، دار الفكر - سورية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ما هو معروف بين الناس في زماننا من أن البكر لها أشياء زائدة على المهر .... وأنت خبير بأن هذه المذكورات تعتبر في العرف على وجه اللزوم على أنها من جملة المهر، غير أن المهر منه ما يصرح بكونه مهرا ومنه ما يسكت عنه بناء على أنه معروف لا بد من تسليمه، بدليل أنه عند عدم إرادة تسليمه لا بد من اشتراط نفيه أو تسمية ما يقابله كما مر، فهو بمنزلة المشروط لفظا فلا يصح جعله عدة وتبرعا."
(كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في حط المهر والإبراء منه، ج:3، ص:130، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100086
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن