
مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے، میں اور میرا دوست ایک مرتبہ غلط جگہ پر گئے تھے، وہاں سے واپسی پر میرے دوست اور میں نے قسم کھائی تھی کہ اگر ہم دوبارہ ایسی جگہ پر آئے تو ہم پر ہماری بیوی طلاق ہے، اس وقت میری شادی کی بات نہیں چل رہی تھی، اس کے باوجود بھی میں دو تین مرتبہ اس جگہ چلا گیا تھا، پھر میں نے توبہ کر لی اور دل سے توبہ کی، اس کے بعد میں دبئی شفٹ ہو گیا، دبئی میں بھی ایک دوست کے کہنے پر ایک مرتبہ میں غلط جگہ پر چلا گیا، لیکن پھر توبہ کر لی، اب میں کوئی غلط کام نہیں کرتا، اب میرے گھر میں میری شادی کی بات چل رہی ہے، جس کی وجہ سے میں بہت زیادہ پریشان ہوں، مجھے اب اس مسئلے کا حل بتا دیجئے کہ اب میں کیا کروں؟ کیا شادی کی صورت میں میری بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو الفاظ کہے تھے کہ: " اگر ہم دوبارہ ایسی جگہ پر آئے تو ہم پر ہماری بیوی طلاق ہے"، اس وقت چونکہ سائل کا نکاح نہیں ہوا تھا، لہذا ان الفاظ کی بنا پر سائل کے نکاح کے بعد اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ اس لیے کہ جس وقت آپ نے یہ الفاظ کہے تھے اس وقت آپ شادی شدہ نہیں تھے اور یہ الفاظ کہتے وقت آپ نے شادی کی طرف نسبت بھی نہیں کی تھی، لہذا یہ تعلیق (یعنی: طلاق کو معلق کرنا) درست نہیں ہوئی، اب شادی کرنے کی صورت میں آپ کی ہونے والی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم آئندہ اس قسم کے الفاظ کے کہنے سے اجتناب کریں۔
نیز برائی کی جگہ جانے اور برے افراد کی صحبت سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کریں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)."
(كتاب الطلاق، باب التعليق، جلد : 3، صفحه: 344 ، طبع: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101149
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن