بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نکاح اور ولیمہ ایک ہی دن ہوسکتا ہے؟


سوال

کیا ایک دن میں نکاح اور ولیمہ ہوسکتا ہے؟جس کے اخراجات ـ(لڑکا اور لڑکی) والے کریں، یعنی مشترکہ طور پر برداشت کریں،اس طریقہ میں رسومات، فضول خرچی ،اوروقت بھی ضائع نہیں ہوتا۔

جواب

واضح رہے کہ ولیمہ کرنا لڑکے والوں کے لیے سنت ہے، لڑکی والوں کے لیے ولیمہ نہیں، اس لیے ولیمہ کرنے کی ذمہ داری فقط لڑکے والوں کی ہوتی ہے، لہذا لڑکی والوں پر اس کے اخراجات مقرر کرنا جائز نہیں، لڑکی والوں پر دعوت نکاح یا دعوت رخصتی بھی مسنون نہیں، اور نہ ہی لڑکی والوں سےکسی قسم کی دعوت کا مطالبہ کرنا جائز ہے، باقی اگر لڑکی والے از خود مہمانوں کو مدعو کریں اور اس میں ریاکاری اور نمود ونمائش مقصود نہ ہو تو جائز ہے، لیکن استطاعت نہ ہونے کے باجود دعوت کا بوجھ اپنے اوپر لینا غیر مناسب طریقہ ہے، اور اسی غیر مناسب روایات کی تکمیل کے لیے آج کل ولیمہ کے ساتھ دعوتِ نکاح کو ضم کرکے ولیمہ کا نام ختم کرکے شالیمہ کا نام ایجاد کیا گیا ہے، تاکہ مہمانوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ دعوت دونوں طرف سے مل کے مشترکہ طور پر کی جارہی ہے جس کی کوئی نظیر قرآن و سنت میں نہیں ملتی، ایسی دعوت کو رسومات اور فضول خرچی سے پاک قرار دینا بذات خود قابل غور ہے، جب یہ بذات خود نئی رسومات کا حصہ ہے، اور اس کی کوئی نظیر اسلام میں ہے ہی نہیں تو رسومات سے بچا ہوا، کیسے؟بلکہ یہ دعوت تو ولیمہ مسنونہ کو اپنے وقت پر کرنے سے روکتی ہے۔

ہاں!اگر شب زفاف کے بعد ولیمہ کیا جائے اور لڑکی والے اس میں اپنا سرمایہ ملا کر مہمانوں کے لیے کھانے کی میز کو بہتر بنائیں یا مقدار بڑھائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ لڑکی والوں کونفس دعوت کا ثواب ملے گا اور لڑکے والوں کاولیمہ اپنے وقت پر مسنون طریقہ سے ہوگا، لیکن رخصتی سے پہلے مشترکہ دعوت ولیمہ مسنونہ نہیں کہلائے گا، کیوں کہ ولیمہ مسنونہ شب زفاف کے بعد ہوتا ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما."

(کتاب الکراھیة، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:343، ط:رشیدیة)

کفایت المفتی میں ہے:

"ولیمہ کی دعوت مسنون ہے، مگر وہ دولہا والوں کی طرف سے زفاف کی صبح کو ہوتی ہے."

(کتاب النکاح، ص:156، ج:5، ط:دار الاشاعت)

امداد الاحکام میں ہے:

" ولیمہ مشہور قول میں تو اسی دعوت کا نام ہے جو شبِ زفاف ودخول کے بعد ہو اور بعض اقوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے وقت سے دخول کے بعد تک جو بھی دعوت ہو ولیمہ ہی ہے، مگر راجح قول اوّل ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے  ولیمہ بعد الدخول ہی ثابت ہے."

(کتاب الحظر والاباحۃ، ج:4، ص:291، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101174

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں