
میں پچھلے چار سال سے اپنے والد کے گھر رہ رہی ہوں اور اس عرصے میں میرا اپنے شوہر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا، اسی سال جولائی میں میں نے خلع کا کیس دائر کیا تھا، آج عدالت میں میرے شوہر کی موجودگی میں اس کا فیصلہ ہو گیا ہے اور مجھے عدالت کے ذریعے خلع مل گئی ہے۔ اس وقت میں ملازمت بھی کر رہی ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتِ حال میں مجھ پر عدّت لازم ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں خلع واقع ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں حتمی جواب خلع کے کاغذات دیکھ کر ہی دیا جاسکتا ہے، لہذا اگر حتمی جواب درکار ہو تو خلع کے کاغذات کی مصدقہ اردو کاپی سوال کے ساتھ ارسال فرمائیں، ان شاء اللہ جواب دے دیا جائے گا۔
البتہ اصولی طور پر اتنا سمجھنا چاہیے کہ خلع بھی مالی معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے جس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، لہذا اگر شوہر اپنی رضامندی سے جج کے سامنے خلع دے دے یا عدالتی فیصلے پر بعد میں زبانی یا تحریری طور پر رضامندی ظاہر کر دے تو اسی وقت ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے اور مطلقہ کی عدت بھی اسی وقت سے شمار ہوگی، اگر چہ اس سے پہلے کئی سال تک میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ رہے ہوں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، و في الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية".
(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، 1 / 532، ط: رشیدیہ)
فتاوی شامی میں ہے :
"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية: لايتم الخلع ما لم يقبل بعده."
(باب الخلع، ج:3، ص:440، ط:دار الفكر - بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول، لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول."
(کتاب الطلاق، فصل في قوله طلقي نفسك، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100221
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن