بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں لڑکی کی ولدیت غلط بیان کرنا


سوال

میری بہن کا نکاح ہو گیا رخصتی نہیں ہوئی ،مسئلہ یہ ہے کہ نکاح کے  وقت میری بہن کے  حقیقی باپ کے نام کی جگہ منہ بولے باپ کا نام لیا تھا،  میری بہن عقد نکاح کی مجلس میں موجود نہیں تھی بلکہ بہن کی طرف سے وکیل موجود تھا اور وکیل ہی نے ایجاب و قبول کیا ،پھر وکیلوں نے گھر جا کر  نکاح نامہ پر میری بہن سے دستخط کروائے، پوچھنا یہ ہے کہ تجدید نکاح  ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی نسبت حقیقی والد کے علاوہ کسی اور  کی طرف بطور ولدیت کرنا بنص قرآنی حرام ہے، اس  بارے میں سخت وعیدات احادیث میں وارد ہوئی ہیں،  لہذا اپنی درست ولدیت لکھنی، اور بتانی چاہیے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر  مجلسِ  نکاح میں ایجاب وقبول کے وقت  دلہن کی   غلط ولدیت ذکر کی گئی اور   دولہن بھی  موجود نہیں تھی اس  کے وکیل نے اس  کی جانب سے  ایجاب یا  قبول کیا  تھا  تو ایسی صورت میں مذکورہ نکاح درست نہیں  ہوا، نکاح کرائے بغیر مذکورہ لڑکا اور لڑکی کا میاں بیوی کی حیثیت سے  ساتھ رہنا جائز نہیں ہے؛لھذا رخصتی سے قبل از سر نو نکاح کرنا ضروری ہوگا ۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح

(قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافا لابن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقا والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوبا إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح۔"

( كتاب النكاح، ٣ / ٢٦، ط: دار الفكر)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

’’اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر لڑکی حاضر ہو اور اس کی طرف اشارہ کیا جائے تو ایسی غلطی سے نکاح ہوجاتا ہے اور اگر حاضر نہ ہو نکاح صحیح نہیں ہوتا،  او رشامی میں یہ بھی تحقیق فرمائی ہے کہ اگر گواہ منکوحہ کو جانتے ہوں تو بدون باپ کے نام  لیے نکاح ہوجاتا ہے،  لیکن اگر باپ کی جگہ دوسرے شخص کا نام لیا جاوے اور بنتِ  فلاں کہا جاوے تو اس صورت میں اگرچہ گواہ اس منکوحہ کو جانتے بھی ہوں تب بھی نکاح صحیح نہیں ہوتا۔البتہ حاضر ہونے کی صورت میں جب کہ اس کی طرف اشارہ کیا جائے کہ اس عورت کا نکاح کیا جو کہ فلاں بنت فلاں ہے تو غلطی کی صورت میں بھی نکاح صحیح ہے، خواہ اس منکوحہ کا نام غلط لیا گیا ہو یا اس کے باپ کا؛ "فإنها لو کانت مشاراً إلیها و غلط في اسم أبیها أو اسمها لایضرّ الخ شامی۔"

(کتاب النکاح ،97/7،ط:دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں