بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1448ھ 12 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے سلسلے میں دین داری کو ملحوظ رکھنا مطلوب ہے اور اس کی حدود وقیود


سوال

جو بچیاں پردے کی پابند اور شرعی حدود کی رعایت کرنے والی ہیں، ان کے لیے موجودہ معاشرتی حالات میں رشتوں کے سلسلے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ جب پردے اور دینی مزاج کا ذکر کیا جاتا ہے تو لوگ تامل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ شادی بیاہ کے مواقع پر اکثر غیر شرعی رسومات اور مخلوط ماحول پایا جاتا ہے، حتیٰ کہ عام حالات میں بظاہر دین دار نظر آنے والے گھرانوں میں بھی شادیوں کے موقع پر ایسے امور دیکھنے میں آتے ہیں، جس سے دینی مزاج رکھنے والی بچیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے تشویش پیدا ہوتی ہے۔ ‎

اس تناظر میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ رشتوں کے انتخاب میں دین داری کو کس حد تک پیشِ نظر رکھنا چاہیے، اور آج کے دور میں جب معاشرے میں غیر شرعی رسومات اور بدعات عام ہوں تو صرف ان بنیادوں پر کسی کے دینی معیار کے بارے میں کیا حکم ہے؟

‎اسی طرح راہ نمائی مطلوب ہے کہ رشتے کے آغاز میں دینی مزاج اور پردے کی پابندی کو کس مناسب اور مؤثر انداز میں بیان کیا جائے تاکہ بات واضح بھی رہے اور کسی غلط فہمی کا بھی اندیشہ نہ ہو، اور ایسے حالات میں بہتر طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ ‎

ہم دین دار اور مناسب رشتے کی تلاش میں ہیں اور اس سلسلے میں مسلسل دعا بھی کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی مناسب صورت نہیں بن رہی۔ براہِ کرم کوئی مسنون دعا یا وظیفہ بھی ارشاد فرما دیں اور ہمارے لیے خصوصی دعا کی درخواست ہے!

جواب

حدیث شریف کے مطابق عام طور پر کسی سے نکاح چار وجوہات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، کبھی مال کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے، کبھی جمال کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے، کبھی حسب نسب کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے اور کبھی دین داری کو بنیاد بنا کر نکاح کیا جاتا ہے، ان میں سے شریعت نے دین داری کو بنیاد بنا کر نکاح کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن دین داری کی حدود اور قیود بیان نہیں کی گئیں، بس یہ حکم ہے کہ دین داری کو بنیاد بنا کر نکاح کو ترجیح دینا چاہیے، نكاح ایسی جگہ کرنا چاہیے جہاں دین کو ترجیح دی جاتی ہو، دین دار ماحول ہو اور دین دار گھرانہ ہو، خوف خدا ہو، لہذا جس گھرانے میں ظاہری طور پر دین داری ہو اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی كوشش کی جاتی ہو ایسے گھرانے میں نکاح کرنے کو ترجیح دینا چاہیے لیکن چونکہ معاشرے میں غیر شرعی رسومات اور بدعات عام ہیں تو عام طور پر مكمل دین داری کسی میں پائی جائے ايسا مشكل ہے،بلکہ کہیں نہ کہیں کوئی غیر شرعی عمل کسی کے گھر میں شادی وغیرہ کے موقع پر پایا ہی جاتا ہے، لہذا اس طرح کا اکا دکا عمل نظر انداز كردينا چاہیے اگر کسی گھر میں غالب اعمال شریعت کے مطابق ہوں تو وہاں شادی کرنے کو ترجیح دینا چاہیے۔ 

دوسری بات سوال میں یہ پوچھی گئی کہ رشتے کے آغاز میں دینی مزاج اور پردے کی پابندی کو کس طرح بیان کیا جائے تو محبت اور نرمی سے جس وقت پیغام نکاح بھیجا جائے اسی وقت اس بات کو خوش اسلوبی اور اچھے انداز سے بیان کر دینا چاہیے تاکہ لڑکے والوں کے ذہن میں یہ بات رہے کہ لڑکی پردہ کرتی ہے تاکہ بعد میں کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو، نیز اس معاملے میں سخت الفاظ کا استعمال بسا اوقات نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، اس لیے خاندان کے بڑوں کو چاہیے کہ شریعت کی روشنی میں اس بات کو شروع میں حکمت کے ساتھ بیان کر دیں تاکہ دین پر عمل بھی ہو سکے اور بدمزگی بھی پیدا نہ ہو۔

باقی نیک رشتہ کے لیے    نیز مندرجہ ذیل معمولات میں سے کوئی ایک یا سب اختیار کرسکتے ہیں:

1- { رَبِّ إِنِّي لِمَاأَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ} کا کثرت سے ورد کریں۔

2۔ دن میں پانچ سو مرتبہ" لَا حَولَ ولَا قوّةَ اِلا بالله"پڑھیں اور اول وآخرسو سو مرتبہ درود شریف پڑھیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے خوب دعا مانگیں۔

3- نمازِ عشاء  کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اوردرمیان میں گیارہ سومرتبہ ’’یاَلَطِیْفُ‘‘ پڑھ کراللہ تعالیٰ سے دعاکرنا بھی مجرب ہے۔

4- نمازِ عشاء کے بعد اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں 41 مرتبہ درج ذیل کلمات پڑھ کر دعا کیجیے:

{وَمَنْ یَّـتَّقِ اللهَ یَجْعَلْ لَّه‘ مَخْرَجًا وًَیَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبْ وَمَنْ یَّـتَوَكَّلْ عَلَی اللهِ فَهُوَ حَسْبُه}

5- صبح و شام ایک ایک مرتبہ سورہ واقعہ اور سورہ طارق روزانہ اس مقصد کے لیے پڑھنا بھی مجرب ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن) أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ( تنكح المرأة لأربع ) أي: لخصالها الأربع في غالب العادة (لمالها، ولحسبها) بفتحتين وهو ما يكون في الشخص وآبائه من الخصال الحميدة شرعا أو عرفا مأخوذ من الحساب، لأنهم إذا تفاخروا عد كل واحد منهم مناقبه ومآثر آبائه (ولجمالها) أي: لصورتها (ولدينها) أي: سيرتها. قال الطيبي - رحمه الله -: " لمالها إلخ بدل من أربع بإعادة العامل، وقد جاءت اللام مكررا في الخصال الأربع في صحيح مسلم، وليس في صحيح البخاري اللام في جمالها اه. وما في الكتاب موافق لمسلم ( فاظفر بذات الدين ) أي: فز بنكاحها. قال القاضي - رحمه الله -: " من عادة الناس أن يرغبوا في النساء ويختاروها لإحدى أربع خصال عدها، واللائق بذوي المروءات وأرباب الديانات أن يكون الدين من مطمح نظرهم فيما يأتون ويذرون، لا سيما فيما يدوم أمره ويعظم خطره. ( تربت يداك ) يقال: ترب الرجل أي: افتقر كأنه قال: تلتصق بالتراب، ولا يراد به هاهنا الدعاء، بل الحث على الجد والتشمير في طلب المأمور به. قيل: معناه صرت محروما من الخير إن لم تفعل ما أمرتك به، وتعديت ذات الدين إلى ذات الجمال وغيرها، وأراد بالدين الإسلام والتقوى، وهذا يدل على مراعاة الكفاءة، وأن الدين أولى ما اعتبر فيها. (متفق عليه) ورواه أبو داود، والنسائي، وابن ماجه.

قال ابن الهمام: إذا لم يتزوج المرأة إلا لعزها أو مالها أو حسبها، فهو ممنوع شرعا قال - صلى الله عليه وسلم -: ( من تزوج امرأة لعزها لم يزده الله إلا ذلا، ومن تزوجها لمالها لم يزده إلا فقرا، ومن تزوجها لحسبها لم يزده إلا دناءة، ومن تزوج امرأة لم يرد بها إلا أن يغض بصره ويحصن فرجه أو يصل رحمه بارك الله له فيها وبارك لها فيه ) . رواه الطبراني في الأوسط. وقال - صلى الله عليه وسلم -: " لا تتزوجوا النساء لحسنهن، فعسى حسنهن أن يرديهن، ولا تتزوجوهن لمالهن فعسى أموالهن أن تطغينهن، ولكن تزوجوهن على الدين، ولأمة خرماء سوداء ذات دين أفضل " رواه ابن ماجه. والخرماء بفتح الخاء المعجمة ما قطع من أذنها أو من أنفها شيء. وفي شرح السنة: " روي أن رجلا جاء إلى الحسن وقال: إن لي بنتا وقد خطبها غير واحد، فمن تشير علي أن أزوجها؟ قال: زوجها رجلا يتقي الله، فإنه إن أحبها أكرمها، وإن أبغضها لم يظلمها."

(كتاب النكاح، ج:5، ص:3082، ط:دار الفكر)

معارف القرآن میں ہے:

"مصائب سے نجات اور مقاصد کے حصول کا مجرب نسخہ :۔ حدیث مذکور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عوف بن مالک کو مصیبت سے نجات اور حصول مقصد کے لے یہ تلقین فرمائی کہ کثرت کے ساتھ لاحول ولاقوة الا باللہ پڑھا کریں۔ حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ دینی اور دنیاوی ہر قسم کے مصائب اور مضرتوں سے بچنے اور منافع و مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اس کلمہ کی کثرت بہت مجرب عمل ہے اور اس کثرت کی مقدار حضرت مجدد نے یہ بتلائی کہ روزانہ پانسو مرتبہ یہ کلمہ لاحول ولاقوة الا باللہ پڑھا کرے اور سو سو مرتبہ درود شریف اس کے اول و آخر میں پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دعا کرے۔" 

(سورۃ الطلاق، ج:8، ص:488، ط:مکتبہ معارف القرآن)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں