بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے کاغذات میں نکاح کی تاریخ غلط اندراج کروانے کا حکم


سوال

میرے ایک رشتہ دار کا 2023 میں ایک مطلقہ لڑکی سےمیرے سامنے دوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ مہر مقرر کرکے شرعا نکاح ہوا،لیکن  جب اس کا  نکاح نامہ بناتواس میں لکھا ہوا تھا کہ2024 میں نکاح ہوا ہے، جس کی وجہ یہ تھی کہ لڑکی کے  طلاق کے کاغذات نہیں بنے ہوئے تھے،تو طلاق کے کاغذات بنوائے گئےاور اس میں طلاق کی تاریخ کا غلط اندراج کیا، جس کی وجہ سے نکاح نامہ میں غلط تاریخ لکھوائی،اور 2024 کے اعتبار سے نکاح نامہ بنوانے سے سستا نکاح نامہ بنا،  تو کاغذات کے مطابق2023 سے 2024 تک تقریبا دس مہینے قانونا ان کا نکاح نہیں ہواجب کہ اس عرصے میں وہ ایک ساتھ رہتے رہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس عرصے میں ان کا ایک ساتھ رہنا جائز تھا؟

جواب

واضح رہے کہ مرد و عورت خود یا ان کے وکیل  نکاح کی مجلس  میں  شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا  ایجاب وقبول کرلیں اور  مرد و عورت یا ان کے وکیل کے  اس ایجاب وقبول  کو  دو مسلمان  عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اسی مجلس میں سن لیں تو اس سے شرعا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، شرعا نکاح منعقد ہونے کے بعد میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا جائز ہےاگرچہ قانونی طور ان کے نکاح کے کاغذات نہ بنے ہوں،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے رشتہ دار کا نکاح اس اس مطلقہ عورت سے اس کی  عدت مکمل ہونے کے بعد ہوا تھا  تو   سائل کے رشتہ دار کا شرعا نکاح منعقد ہو گیا تھا اور ان کا ایک ساتھ رہنا جائز تھا اگرچہ قانونی طورپر انہوں نے نکاح نامے میں غلط تاریخ کا اندراج کروایاتھا۔

 صحیح بخاری میں ہے:

"حدثنا عثمان بن أبي شيبة: حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ..... إن ‌الكذب ‌يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب، حتى يكتب عند الله كذابا."

(كتاب الأدب، باب، ج: 5، ص: 2261، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔۔۔۔ یقینا جھوٹ برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے یہاں" کذّاب" (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھا جاتا ہے۔"

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:

"الأصل في الكذب أنه حرام بالكتاب والسنة وإجماع الأمة، وهو من أقبح الذنوب وفواحش العيوب، قال تعالى: {ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب إن الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون}.

وروى ابن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا، وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا."

(حرف الکاف، کذب، ج: 34، ص: 204، ط: مطابع دار الصفوة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر."

(کتاب النکاح، ج: 3، ص: 9، ط: دار الفکر بیروت) 

وفیہ ایضا:

"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح."

(کتاب النکاح، ج: 3، ص: 21،22، ط: دار الفکر بیروت) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100564

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں