
میری رخصتی نہیں ہوئی ،البتہ نکاح ہوگیا ہے،دو ہفتہ پہلے میں نے اپنی بیوی کو فون پر تین دفعہ یہ الفاظ کہے تھے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتاہوں ‘‘،تو کیا میری طلاقیں واقع ہوجائیں گی ؟اگر واقع ہوجائیں گی تو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے حل کیا ہے؟آپس میں ہماری ملاقات نہیں ہوئی ہے،فون پر رابطہ ہوا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل نے اگر واقعۃ نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت صحیحہ (یعنی مرد و عورت دونوں ایسی جگہ میں تنہا جمع ہوں جہاں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی مانع نہ ہو)سے پہلے اپنی بیوی کو ان الفاظ سے طلاق دی تھی کہ’’میں تمہیں طلاق دیتاہوں،میں تمہیں طلاق دیتاہوں ،میں تمہیں طلاق دیتاہوں‘‘،تو پہلے جملہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تو اس طرح متفرق الفاظ میں سے پہلے الفاظ سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی اور اسی وقت نکاح ختم ہوگیا تھا، اس کے بعد دوسرا اور تیسرا جملہ کہنے سے مزید طلاق کا محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے مزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ نیز اس صورت میں مطلقہ پر عدت لازم نہیں، باقی نکاح میں جتنا مہر طے ہوا ہے، سائل پر اُس کا آدھا بطورِ مہر ادا کرنا واجب ہے اور اگر وہ مکمل مہر پہلے سے ہی کو ادا کرچکا ہے تو طے شدہ مہر میں سے آدھا رکھ کر بقیہ مہر شوہر کے حوالہ کرنا ضروری ہوگا۔
اب اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیامہرمقرر کرکے نئے ایجاب وقبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا،تجدید نکاح کے بعد آئندہ کے لیے سائل کےپاس دو طلاق کا اختیار ہوگا۔
الفتاوى الهندية میں ہے :
"إذا طلق الرجل امرأته ثلاثًا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول: أنت طالق طالق طالق."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول ،1/ 373، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100298
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن