
اگر نکاح خواں نے لڑکی کو کہا کہ ”فلاں بنت فلاں! آپ نے اپنے آپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن فلاں کو دیا ہے؟“ اور لڑکی نے پہلی دفعہ جواب میں کہا ”قبول ہے!“ ”دیا ہے“ نہیں کہا اور دوسری دفعہ جواب میں کہا”جی!“ اور تیسری دفعہ جواب میں بھی کہا”جی!“ جب کہ لڑکے نے تینوں دفعہ جواب میں کہا ”"جی! میں نے قبول کیا“ تو کیا نکاح ہو جائے گا؟
واضح رہے کہ نکاح میں ایسے الفاظ پائے جانے ضروری ہیں جو صراحتہ یا کنایۃ ایجاب و قبول پر دلالت کرتے ہوں اور ایک مرتبہ یہ الفاظ کہنا کافی ہے، تین مرتبہ کہا ضروری نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں نکاح خواں کی جانب سے مذکورہ طریقہ پر نکاح کی پیشکش کے جواب میں لڑکا اور لڑکی نے ایک مرتبہ بھی ”قبول ہے!“ اور ”جی!“ کہہ دیا اور نكاح كی دیگر شرائط بھی پائی گئیں تو یہ نکاح منعقد ہوگیا۔
رد المحتار میں ہے :
"(وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين) كاملة ."
(کتاب النکاح، ج:3، ص:16، ط: ایچ ایم سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"(وما ينعقد به النكاح فهو نوعان) صريح وكناية فالصريح لفظ النكاح والتزويج، وما عداهما وهو ما يفيد ملك العين في الحال كناية، كذا في النهر الفائق ناقلًا عن المبسوط."
(کتاب النکاح، الباب الثانی فیما ینعقد به النکاح و ما لا ینعقد به، ج:1، ص: 270، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100966
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن