بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح خواں کے بیان کردہ مہر کا اعتبار ہوگا یا نکاح نامہ میں تحریر شدہ مہر کا؟


سوال

2009 میں میری بہن کی نکاح میںلڑکے والوں کے ساتھ نکاح سے پہلے مہر کے بارے میں اس طرح بات ہوئی تھی کہ مہر میں پانچ تولہ زیورات، آدھی کنال کا ایک گھر اور کچھ نقد رقم ہوں گے، نکاح کے وقت گورنمنٹ رجسٹرار نے نکاح فارم کی فیس مہر زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ بتائی؛ جس کی وجہ سے ہم اور لڑکے والوں نے باہمی رضامندی سے طے کیا کہ ابھی نکاح پڑھا لیتے ہیں، بعد میں مہر گورنمنٹ رجسٹرار سے رجسٹرڈ کروا لیں گے، نکاح ہو گیا اور نکاح خواں نے مہر کے بارے میں زبانی کہا کہ”اتنے  مہر کے بدلے“ اور مہر میں صرف نقد رقم کا تذکرہ کیا، باقی چیزوں کا تذکرہ نہیں کیا، کیوں نہیں کیا؟اس بارے میں علم نہیں! اس کو یاد نہیں آیا یا بقیہ چیزوں کا تذکرہ ضروری نہیں سمجھا، بعد میں تقریبا 25 دن بعد گورنمنٹ نکاح فارم پر مہر کو رجسٹرڈ کروادیا، نکاح نامہ میں اُن تینوں چیزوں کو درج کردیا اور  ان تین چیزوں میں سے نقد رقم اور زیورات لڑکے والوں نے اداء بھی کردیئے، پھر دوبارہ کسی موقع پر زیورات یہ کہہ کر لے لیے کہ انہیں بیچ کر دکان خریدنا ہے بعد میں واپس کر دیں گے اور اس کے بعد ابھی تک واپس نہیں کیے اور جو آدھی کنال کا گھر تھا وہ بھی نہیں دے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں نکاح خواں کے زبانی بولے ہوئے مہر کا اعتبار ہوگا یا نکاح فارم پہ لکھے ہوئے مہر کا؟ جب کہ رشتہ طے پاتے وقت تینوں چیزوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ چیزیں لڑکے والوں نے قبول بھی کی تھیں۔

وضاحت:لڑکے والوں نےخود نکاح کے بعد نکاح نامہ میں یہ تینوں چیزیں لکھ کر دی تھی۔

وہ لوگ ابھی بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ تینوں چیزیں ہم نے لکھ کر دی تھی لیکن اعتراض یہ کر رہے ہیں کہ نکاح خواں نے زبانی نقد رقم کا بولا تھا باقی چیزوں کا نہیں بولا تھا؟

جواب

صورتِ مسئولہ اگر واقعۃً رشتہ طے پاتے وقت میاں بیوی یا ان کے اولیاء کے درمیان یہی تینوں چیزیں( پانچ تولہ زیورات، آدھی کنال کا ایک گھر اور کچھ نقد رقم) مہر میں طے ہوئی تھیں اور عقد نکاح کے بعد لڑکے والوں نے نکاح نامہ میں بھی یہی تینوں چیزیں بطورِ مہر لکھوائی تھیں اور اس کا اقرار بھی کر رہے ہیں تو اِسی مہر کا اعتبار ہوگا، نکاح خواں کے بیان کردہ مہر کا اعتبار نہیں ہوگا اور لڑکے والوں پر یہی تینوں چیزیں ادا کرنا لازم ہوں گی۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(وما فرض) بتراضيهما أو بفرض قاض مهر المثل (بعد العقد) الخالي عن المهر (أو زيد) على ما سمي فإنها تلزمه بشرط قبولها في المجلس أو قبول ولي الصغيرة ومعرفة قدرها وبقاء الزوجية على الظاهر نهر.

(قوله بشرط قبولها إلخ) أفاد أنها صحيحة ولو بلا شهود أو بعد هبة المهر والإبراء منه وهي من جنس المهر أو من غير جنسه بحر، وسواء كانت من الزوج أو ولي، فقد صرحوا بأن الأب والجد لو زوج ابنه ثم زاد في المهر صح نهر."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:102، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں