
لڑکا سعودی عرب میں مقیم ہے اور لڑکی دبئی میں ہے۔ اگر یہ دونوں پاکستان میں موجود کسی نکاح خواں کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کر دیں، اور نکاح خواں دو مرد گواہوں کی موجودگی میں ان دونوں (لڑکے اور لڑکی) کا نکاح پڑھا دے، تو کیا شریعت کی رو سے اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا؟ جب کہ حقِ مہر وغیرہ تمام امور شریعت کے مطابق طے پا چکے ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکا اور لڑکی دونوں اپنی خوشی و رضامندی سے نکاح خواں کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کردیں، اور بہتر ہے کہ اس وکالت پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بطورِ گواہ موجود ہوں۔ بعد ازاں وہ نکاح خواہ (وکیل) یہاں پاکستان میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں ان دونوں کی طرف سے ایجاب و قبول کرلے، تو شرعًا ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا۔
تاہم اگر اس نکاح میں لڑکی کے اولیاء کی اجازت و رضامندی شامل نہ ہو، تو ان کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا ناپسندیدہ عمل ہے، ایسی صورت میں اگر نکاح غیر کفو میں ہوا ہو، یعنی لڑکا دین، دیانت، حسب و نسب، مال و پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ نہ ہو، تو اولاد ہونے سے پہلے پہلے لڑکی کے اولیاء کو عدالت سے رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر كزوجت بنتي من موكلي.
وفي الرد: (قوله وليا أو وكيلا من الجانبين) كزوجت ابني بنت أخي أو زوجت موكلي فلانا موكلتي فلانة قال ط: ويكفي شاهدان على وكالته، ووكالتها وعلى العقد لأن الشاهد يتحمل الشهادات العديدة. اهـ."
(كتاب النكاح، باب الكفاءة، مطلب في الوكيل والفضولي في النكاح، ج:3، ص:96، ط:ايج ايم سعيد)
وفيه أيضاً:
"(فنفذ نكاح حرة مكلفة لا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبةً) ولو غير محرم كابن عم في الأصح، خانية. وخرج ذوو الأرحام والأم وللقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح ( ما لم ) يسكت حتى ( تلد منه)."
(كتاب النكاح، باب الولي، ج:3، ص:55، ط:ایج ایم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101286
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن