
عالم اور دینداری میں فرق کیا ہے۔۔؟؟ دینداری سے کیا مراد ہے تفصیل بیان کریں ایک لڑکا دیندار ہو اور عالم نہ ہو تو کیا وہاں رشتہ کرنا بہتر ہوگا یا عالم ہونا ضروری ہے..؟؟؟
واضح رہے کہ شرعا دین دار ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی زندگی قرآن وسنت کے مطابق گزارتا ہو،اور عالم ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم میں مہارت رکھتا ہو،صورتِ مسئولہ میں جس لڑکے سے رشتہ کرنا مقصود ہے وہ حقیقتا قرآن وسنت کا متبع ہے اور لڑکی کا کفو(ہم پلہ )تو ایسے جگہ رشتہ کیا جاسکتا ہے ،لڑکے کا عالم ہونا ضروری امر نہیں ، البتہ اگر عالم بھی ہو اور دیندار بھی ہو اور لڑکی کا کفو (ہم پلہ)بھی تو صرف دین دار سے زیادہ بہتر ہے۔
مشکوۃ شریف میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك."
(کتاب النکاح، الفصل الاول، ج:2، ص:267، ط:المکتب الاسلامی)
"ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت سے نکاح کرنے کے بارے میں چار چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے: اول: اس کا مال دار ہونا۔ دوم: اس کا حسب نسب والی ہونا۔ سوم: اس کا حسین وجمیل ہونا۔ چہارم: اس کا دین دار ہونا، اس لیے اے مخاطب! تم دیندار عورت کو اپنا مطلوب قرار دو! خاک آلودہ ہوں تیرے دونوں ہاتھ۔"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101101
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن