بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے وقت ماہانہ جیب خرچ کی متعین رقم کی شرط لگائی تو شوہر پر وہ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟


سوال

میرے نکاح نامے میں دو ہزار روپے ماہوار جیب خرچ لکھا ہوا ہے اب درجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1۔ کیا مجھے یہ ماہوار جیب خرچ لازمی دینا ہو گا یا صرف نان نفقہ دینا کافی ہے؟

2۔ کیا یہ ماہوار جیب خرچ نفقہ کا متبادل ہے اور یہ ماہوار جیب خرچ دینے کے بعد باقی نفقہ مجھ پر سے ساقط ہو جائے گا؟

3۔ یہ ماہوار جیب خرچ نہ دینے کی صورت میں مجھ پر کوئی گناہ یا پکڑ تو نہیں ہو گی؟

جواب

1، 2، 3۔واضح رہے کہ بیوی کے لیے رہائش، کھانے پینے اور لباس کا مناسب انتظام کرنا شوہر کی شرعی ذمہ داری ہے۔اس کے علاوہ بیوی کو جیب خرچ (پاکٹ منی) دینا شوہر کی لازم شرعی ذمہ داریوں میں شامل نہیں، بلکہ یہ شوہر کی طرف سے محض احسان اور تبرع ہے۔تاہم اگر نکاح کے وقت باقاعدہ یہ طے پایا ہو کہ شوہر ہر ماہ بیوی کو ایک مقررہ رقم بطور جیب خرچ ادا کرے گا، اور شوہر نے اس شرط کو قبول بھی کر لیا ہو، تو ایسی صورت میں نان و نفقہ کے علاوہ وہ متعین جیب خرچ ادا کرنا بھی شوہر پر لازم ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل پر بیوی کے شرعی نان و نفقہ کے علاوہ وہ دو ہزار روپے ماہانہ بھی ادا کرنا لازم ہے جو نکاح کے وقت بطور جیب خرچ مقرر کیے گئے تھے۔ یہ رقم نفقہ میں شامل نہیں ہوگی، بلکہ نان نفقہ کے علاوہ نکاح کے وقت مشروط ہونے کی وجہ سے لازم ہوگی۔لہٰذا اگر شوہر اس طے شدہ جیب خرچ کی ادائیگی نہیں کرتا تو اس کو وعدہ خلافی کا گناہ   ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و النفقة الواجبة المأكول و الملبوس و السكنى ... و أما ما يقصد به التلذذ و الاستمتاع مثل الخضاب و الكحل فلايلزمه، بل هو على اختياره إن شاء هيأه لها، و إن شاء تركه، فإذا هيأه لها فعليها استعماله."

                (کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج:1، ص:544،ط: رشیدیة)

معارف القرآن میں ہے:

”عورت کا جو نفقہ مرد کے ذمہ ہے وہ صرف چار چیزیں ہیں۔ کھانا پینا اور لباس اور مسکن۔ اس سے زائد جو کچھ شوہر اپنی بیوی کو دیتا یا اس پر خرچ کرتا ہے وہ تبرع و احسان ہے واجب و لازم نہیں۔   “

(سورہ طہ:ج:6، ص:157، ط:مکتبہ معارف القرآن)

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”چوں کہ دینی ودنیوی مصارف (اخراجات) کی حاجت اکثر واقع ہوتی رہتی ہے اور عورتوں کے پاس اکثرجداگانہ مال نہیں ہوتا،  اس لیے مردوں کو مناسب ہے کہ نفقہ واجبہ (اور مہر) کے علاوہ حسب حیثیت کچھ خرچ ایسے مواقع کے لیے علیحدہ بھی دید یا کریں پھر اس کا حساب نہ لیا کریں۔ تاکہ وہ اپنی مرضی کے موافق آزادی کے سا تھ بے تکلف ایسے مصارف میں صرف کرسکیں۔“

                                            (تحفہ زوجین: باب9: بیوی کے حقوق کا بیان (ص:84،85)،ط۔المیزان کراچی)

فیض الباری میں ہے:

"قوله: (المسلمون عند شروطهم)... إلخ، يعني: يلزمهم كل شرط تتحمله قواعد الشرع، فعليهم الإيفاء بها".

(كتاب الاجارة، باب أجرة السمسرة ، ج:3، ص:415، ط. دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں