
میرے نکاح نامے میں دو ہزار روپے ماہوار جیب خرچ لکھا ہوا ہے اب درجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
1۔ کیا مجھے یہ ماہوار جیب خرچ لازمی دینا ہو گا یا صرف نان نفقہ دینا کافی ہے؟
2۔ کیا یہ ماہوار جیب خرچ نفقہ کا متبادل ہے اور یہ ماہوار جیب خرچ دینے کے بعد باقی نفقہ مجھ پر سے ساقط ہو جائے گا؟
3۔ یہ ماہوار جیب خرچ نہ دینے کی صورت میں مجھ پر کوئی گناہ یا پکڑ تو نہیں ہو گی؟
1، 2، 3۔واضح رہے کہ بیوی کے لیے رہائش، کھانے پینے اور لباس کا مناسب انتظام کرنا شوہر کی شرعی ذمہ داری ہے۔اس کے علاوہ بیوی کو جیب خرچ (پاکٹ منی) دینا شوہر کی لازم شرعی ذمہ داریوں میں شامل نہیں، بلکہ یہ شوہر کی طرف سے محض احسان اور تبرع ہے۔تاہم اگر نکاح کے وقت باقاعدہ یہ طے پایا ہو کہ شوہر ہر ماہ بیوی کو ایک مقررہ رقم بطور جیب خرچ ادا کرے گا، اور شوہر نے اس شرط کو قبول بھی کر لیا ہو، تو ایسی صورت میں نان و نفقہ کے علاوہ وہ متعین جیب خرچ ادا کرنا بھی شوہر پر لازم ہوگا۔
فتویٰ نمبر : 144708102225
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن