
ایک لڑکے کے لیے اس کے والدین نے اس کی رضامندی سے اس کی کزن کے ساتھ رشتہ پکا کیا، اس کے بعد لڑکے نے اس لڑکی سے بات چیت کرنے کا کہا، تو لڑکی نے منع کیا کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارا گھر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ نکاح سے پہلے میں آپ سے بات کروں ۔
کچھ عرصے بعد اس لڑکے نے لڑکی کی ایک سہیلی سے بات چیت شروع کی، اس سہیلی کو بھی پتہ تھا کہ اس کا رشتہ کہیں اور پکا ہو گیا ہے، اس کے باوجود بھی اس سے بات چیت جاری رکھی۔
اب وہ لڑکا کہہ رہا ہے کہ دوسری لڑکی سے میری شادی کراؤ لیکن والدین نہیں مان رہے ہیں کیونکہ پہلی لڑکی بھی آپ کی پسند کے مطابق تھی ، صرف بات نہ کرنے پر آپ نے غیر اخلاقی اور غیر شرعی طریقہ کیوں اپنایا؟
اور دوسری لڑکی کے ساتھ رشتہ کرنے کی وجہ سے رشتے بھی سارے خراب ہوں گے یعنی چچا، خالہ اور پھوپھی سب ناراض ہوں گے، نیز شادی کے بعد لڑکی کے آنے سے والدین کو اندیشہ ہے کہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو جائے، گھر میں آزاد خیالی وغیرہ کا سبب نہ بنے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1: لڑکا اور دوسری لڑکی غیر شرعی اور غیر اخلاقی طریقے سے بات کرنا چاہ رہے ہیں کیا یہ جائز ہے؟ اور والدین کو صاف بولتے ہیں ہم بات چیت جاری رکھیں گے اب والدین کیا کریں؟
2:کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ کسی لڑکی کو کئی سالوں تک بٹھا کر اس کو چھوڑ دے؟
1:واضح رہے کہ عموماً پسند کی شادی میں وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان جذبات اور پسندیدگی میں کمی آنے لگتی ہے، نتیجتًا ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اورعلیحدگی کی نوبت آجاتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پڑتال کا تجربہ رکھنے والے والدین اورخاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائے دار ثابت ہوتے ہیں اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کارہے، ایسے رشتوں میں وقتی ناپسندیدگی عموماً گہری پسند میں بدل جایا کرتی ہے، اس لیے مسلمان بچوں اوربچیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذمے کوئی بوجھ اٹھانےکے بجائے اپنے بڑوں پراعتماد کریں، ان کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ نیز شریعت نے لڑکے، لڑکی کے نکاح کا اختیار والدین کو دے کر انہیں بہت سی نفسیاتی و معاشرتی سی الجھنوں سے بچایا ہے، اس لیے کسی واقعی شرعی مجبوری کے بغیر خاندان کے بڑوں کے موجود ہوتے ہوئے لڑکے یا لڑکی کا از خود آگے بڑھنا خدائی نعمت کی ناقدری ہے، بےشمار واقعات شاہد ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آکر کیے گئے یہ نادانی کے فیصلے بعد کی زندگی کو اجیرن کر ڈالتے ہیں۔
لہذا مذکورہ لڑکے کو چاہیے کہ اپنی زندگی کو الجھنوں سے بچانے کےلیے اپنے بڑوں کی بات مان لے ، والدین کی رضامندی کے بغیر خود سے ہر گز قدم نہ اٹھائے۔
نیز نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔
اسی طرح والدین کو چاہیے کہ اس کو حکمت وبصیرت سےاپنے بیٹے کوبرابر سمجھاتے رہیں، اگر واقعۃً اس لڑکی میں کوئی خرابی ہو تو اس خرابی کے انجام سے اس کو باخبر کرتے رہیں، اسی طرح تہجد کے وقت دو رکعت صلاۃ الحاجۃ کی نیت سے پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل سے اولاد کی اطاعت و فرماں برداری کی دعا کریں، (صلاۃ الحاجۃ کا طریقہ جواب کے آخر میں ہے) نیز روزانہ فجر اور عصر کے بعد اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھنے کے بعد سو مرتبہ (أَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّیَّتِيْ)کا ورد کرکے دعا کریں۔
صلاۃ الحاجۃ کا طریقہ درج ذیل ہے:
" حدیث میں ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے کوئی خاص حاجت یا اس کے کسی بندے سے کوئی خاص کام پیش آجائے تو اس کو چاہیے کہ وضو کرے خوب اچھی طرح، پھر دو رکعت (اپنی حاجت کی نیت سے) نمازِ حاجت پڑھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور رسول اللہﷺ پرصلاۃ وسلام بھیجے (یعنی درود شریف پڑھے) اس کے بعد یہ دعا کرے:
" لَا اِلٰـهَ اِلَّا اللّٰهُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، اَسْئَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ کُلِّ ذَمنْبٍ، وَالْغَنِیْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ، وَّالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِیْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَه وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَه وَلَا حَاجَةً هِيَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَیْتَهَا یَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ".
2:صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ والدین نے لڑکے کی رضامندی سے اس کا رشتہ اس کی کزن کے ساتھ پکا کیا تو اس کی حیثیت وعدہ کی ہوگئی اور بغیر کسی شرعی اور معقول عذرکے وعدہ اورمعاہدہ کوتوڑنا شرعاً اور اخلاقاً انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، حدیث شریف میں ہے کہ اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاس داری نہیں۔
لہذا اولاً لڑکے کو حکمت کے سمجھایا جائے ، اگر وہ کسی بھی طرح ماننے پر راضی نہ ہو تو جس لڑکی سے پہلے رشتے کی بات ہوئی ہے ، اچھے طریقے سے اس کوختم کردیا جائے ، تاکہ لڑکی معلق نہ رہے ، اور اس کے والدین اس کے لیے کوئی اور مناسب رشتہ تلاش کرسکیں۔
قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
"وَأَوْفُوْا بِٱلْعَهْدِ إِنَّ ٱلْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔولًا."[الإسراء: 34]
ترجمہ :"اور عہد کو پورا کیا کرو ، بے شک عہد کی باز پرس ہونے والی ہے ۔"(بیان القرآن )
نیز مذکورہ لڑکے کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ محض بات کرنے سے انکار کرنے کی بنا پر اس لڑکی کو چھوڑ دوسری لڑکی سے بات چیت کرے۔منگنی کے بعد شرعاً بات چیت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے لڑکی نے کسی غیرشرعی امر کا ارتکاب نہیں کیا ہے ۔ایسی صورت میں اگر لڑکا اس رشتہ کو توڑ دیتا ہے تو وہ گناہ گار ہوگا۔
حدیث شریف میں ہے:
"عن أنس بن مالك قال ما خطبنا نبي الله صلى الله عليه وسلم إلا قال " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له."
(مسند احمد بن حمبل، حديث أبي رمثة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم ج:19،ص:376، ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:"آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص میں امانت کی پاسداری نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس شخص میں وعد ہ کی پاسداری نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔"
سنن ترمذی میں ہے:
"عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كانت له إلى الله حاجة، أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ وليحسن الوضوء، ثم ليصل ركعتين، ثم ليثن على الله، وليصل على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم ليقل: لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين، أسألك موجبات رحمتك، وعزائم مغفرتك، والغنيمة من كل بر، والسلامة من كل إثم، لا تدع لي ذنبا إلا غفرته، ولا هما إلا فرجته، ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين."
(أبواب الوتر، باب ما جاء في صلاة الحاجة، ج: 2، ص: 344، ط: مصطفى البابي الحلبي مصر)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا۔ انتهى.(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لا يشمّتها، و لايرد السلام بلسانه. قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اهـ".
( كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 369، ط: سعيد)
اعمالِ قرآنی میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒنے لکھا ہے:
’’وَ أَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّیَّتِيْ اِنِّيْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(احقاف:15)،خاصیت: جس کی اولاد نافرمان ہو، وہ اس آیت کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرے، ان شاء اللہ تعالی صالح ہوجائے گی،پڑھنے کے وقت "ذُرِّیَّتِيْ " کے لفظ پر اپنی اولاکا خیال رکھے۔‘‘
(ص:30،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100045
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن