
ایک شخص نے نکاح کیا اور نکاح میں جو مہر مقرر ہوا ،شوہر کی طرف سے مقررہ مہر ادا بھی کر دیا گیا ،اس کے بعد شوہر نے بیوی کی رضامندی سےمزید کچھ رقم مہر کے طور پر دی۔
اب آیا جو دوسری رقم ادا کی گئی ہے یہ بھی مہرمیں میں شمار ہوگی یا نہیں؟
نیز بیوی کے خلع لینے کی صورت میں مہر واپسی کرتے ہوئے صرف پہلی رقم واپس کرنا ضروری ہوگا یا بعد میں جو مہر میں اضافہ ہوا ہے ،اس کو بھی واپس کیا جائے گا؟
صورت مسئولہ میں شوہر کی جانب سےمہر میں جو اضافہ کیاگیاوہ بھی اصل مہر شمار ہوگا،لہذااگر خلع مہر کے عوض ہو تو بیوی پر شوہر کا ادا کیا ہوامکمل مہر(مقرر مہراوربعد میں کیاہوااضافہ ) لوٹانا ہو گا،اور شوہر کےلیےبغیرکراہت کے مہر لینا جائز ہوگا ۔
النہر الفائق میں ہے:
"ثم رأيت في (المحيط) ما لفظه: فإن فرض القاضي والزوج بعد العقد جاز لأن ذلك يجري مجرى التقدير لما وجب بالعقد من مهر المثل زاد ونقص لأن الزيادة على الواجب صحيحة والحط عنه جائز ويلتحق بأصل العقد لئلا يلزمها تحمل جهالة مهر المثل وهذا ينبغي أن يحمل على ما إذا رضيا بذلك وإلا فالزيادة على مهر المثل عند إبائه والنقص عنه عند إبائها لا يجوز وأما الثاني فإنما لا يتنصف لاختصاص التنصيف بالمفروض في العقد للنصف المفيد بالفائدة وفي كلامه إشارة إلى جواز الزيادة فيه سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو وليه."
(کتاب النکاح، فصل: المهر، ج:2، ص:235، ط : دار الكتب العلمية)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج. هذا إذا قبلت المرأة الزيادة سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو من ولي، كذا في النهر الفائق."
(كتاب الكفالة، الباب السابع في المهر، الفصل السابع في الزيادة في المهر والحط عنه فيما يزيد وينقص، ج : 1، ص : 312، ط : دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100222
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن