
میری شادی ہونے سے پہلے میرے گھر کے حالات پیسے کے معاملے میں نارمل تھے ، مگر شادی کے بعد حالات خراب ہو گئے، جس عورت سے شادی ہوئی تھی، وہ صحیح نیت سے نہیں آئی تھی، بلکہ گھر لوٹنے کے لیے آئی تھی ، ولیمے کے دوسرے دن میری امی کا ہاتھ ٹوٹ گیا ، پھر ہماری بجلی کا بِل بھی بہت زیادہ آیا جو کہ 20 سالوں میں ایک بار بھی اتنا نہیں آیا تھا،اور میرے پاس بھی پیسے بہت جلدی ختم ہو جاتے تھے ۔مطلب صبح ہزار روپے ہوتے اور شام تک یا اگلے دن تک کچھ روپے نہ بچتے، جبکہ پہلے ایک ہزار روپے میں پورا ہفتہ یا 15 دن تک ختم نہیں کر سکتا تھا، ماں بھی کہتی ہے کہ لڑکی کی قسمت خراب ہے ۔ اب تو حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ میرے جیب اور اکاؤنٹ سے پیسے خرچ پہ خرچ ہوتے گئے، یہاں تک کہ ختم کے قریب پہنچ گئے۔ مطلب جیب میں پہلے کئی ہزار ہوتے تھے، وہ 10 روپے تک پہنچ گئے ،اور اکاؤنٹ میں ایک لاکھ کے قریب ہوتے تھے، وہ 12 روپے تک پہنچ گئے۔ لڑکی تو ہمارے گھر نکاح کے بعد آئی تھی۔ہم نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے اس کے زیورات اور شادی کے جوڑوں پر خرچ کیا تھا۔ وہ لڑکی ہر دو دن کے بعد یا ہفتے بعد اپنے گھر جانے کا بہانہ کرتی اور گھر جاتی، پھر واپس آجاتی، پھر کچھ دن بعددوبارہ جاتی۔ اس طرح اس نے دو مہینوں میں کئی چکر لگائے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ جب گھر جاتی تھی ہمارے دیے ہوئے زیورات اور لباس آہستہ آہستہ اپنے گھر رکھ کر آتی ،پھر اب کچھ دن پہلے جب وہ اپنے گھر گئی تو سارے زیورات ، باقی بچوں کے کپڑے اور جو کچھ ہم نے دیا تھا، وہ سب لے کر اپنے گھر چلی گئی ، اور اب گھر جا کر طلاق مانگ رہی ہے،سامان تو ہم ان شاء اللہ نکلوا لیں گے، مگر اس کے گھر جانے کے بعد ہمارے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مطلب اب میرے اکاؤنٹ میں ضرورت سے زائد پیسے موجود ہیں، اور جیب میں کئی ہزاروں روپے ہیں، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکی جب تک ہمارے گھر میں تھی، ہماری قسمت سوئی ہوئی تھی، اس کے جانے کے بعد اب جاگ چکی ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایک صاحب فرما رہے تھے کہ کسی کے آنے سے قسمت کا خراب ہونا، ایسا سمجھنا شرک کے قریب ہے۔ مگر ایک اور صاحب فرما رہے تھے کہ وہ لڑکی صحیح نیت کے ساتھ نہیں آئی تھی، اس کی نیت کا ایسا اثر پڑا کہ گھر میں بہت زیادہ بے برکتی آگئی۔ اس بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں؟
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی روسے کسی چیز،وقت یا انسان میں نحوست سمجھنا یا کوئی بدفالی لینا جائز نہیں، یہ ایک غلط اور باطل عقیدہ ہےجو دور نبوی سے بھی پہلے سے چلا آرہا ہے ، کئی احادیث مبارکہ میں اس باطل عقیدےکی نفی کی گئی ہے۔ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ”اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو عورت ،گھر اور گھوڑے میں ہوتی“ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہےکہ جب ان تینوں میں نہیں تو کسی چیز میں بھی نہیں۔
لہذاصورتِ مسئولہ میں آپ کا اپنی بیوی کے ساتھ مصیبتوں کے آنےاور اس کی وجہ سے مال کی کمی کا عقیدہ رکھنا یا اس کو کو منحوس سمجھنا ایک غلط اور باطل عقیدہ ہے ،اس سے اجتناب ضروری ہے ،اور نکاح کے بعد مالی تنگی کو دور کرنا اللہ تعالیٰ کےلیے کوئی مشکل نہیں، البتہ سائل کو چاہیے کہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کےساتھ تقویٰ،اعمالِ صالحہ اور دعاؤں کا اہتمام بھی کرے۔
شرح معاني الآثار ميں هے:
"أن سعدا انتهر سعيدا حين ذكر له الطيرة، وأخبره عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لا طيرة" ثم قال: إن تكن الطيرة في شيء، ففي المرأة، والفرس، والدار، فلم يخبر أنها فيهن، وإنما قال: إن تكن في شيء ففيهن أي: لو كانت تكون في شيء لكانت في هؤلاء، فإذا لم تكن في هؤلاء الثلاث، فليست في شيء."
(كتاب الكراهة، باب الرجل يكون به الداء هل يجتنب أم لا؟،ج:9، ص:232، ط:دار ابن حزم)
مرقاة المفاتيح ميں هے:
"قال الخطابي: " هذه الأشياء الثلاثة ليس لها بأنفسها وطباعها فعل وتأثير، وإنما ذلك كله بمشيئة الله وقضائه، وخصت بالذكر لأنها أعم الأشياء التي يعتنيها الناس."
(كتاب النكاح، ج:6، ص:2046، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101112
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن