بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح فیس کا حکم اور اس کی مقدار


سوال

سوال:نکاح کی فیس کتنی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح خواں نکاح پڑھاتے وقت ایجاب و قبول کروانے کے (ساتھ ساتھ  عمومی طور پر نکاح فارم بھی  بھرتا ہے) اس لیے نکاح خواں کا   نکاح پر اجرت (فیس) لینا جائز ہے، تاہم شریعتِ اسلامیہ میں نکاح خواں کے لیے نکاح کی فیس کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں کی گئی، بلکہ اسے فریقین کی باہمی رضامندی ،اختیار اور صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ نکاح خواں کے لیے درست ہے کہ وہ نکاح سے پہلے اپنی اجرت مقرر کر لے، ایسی صورت میں نکاح خواں کے لیے نکاح پڑھانے کے بعد مقررہ فیس وصول کرنا شرعاً جائز ہے، تاہم اگر پہلے سے کوئی اجرت طے نہ ہوئی ہو، تو عرف (علاقائی رواج) کے مطابق نکاح خواں کو مناسب ہدیہ یا رقم دینا بہتر ہے۔

حوالہ جات:

تنویر الابصار شرح الدر المختار میں ہے:

"قلت: لكن في البزازية كل ما يجب على القاضي والمفتي لا يحل لهما أخذ الأجر به كنكاح صغير لأنه واجب عليه وكجواب المفتي بالقول. وأما بالكتابة فيجوز لهما على قدر كتبهما لأن الكتابة لا تلزمهما."

(كتاب القضاء، 461/5، ط: سعید)

النتف فی الفتاوی میں ہے:

"فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره وان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل."

(كتاب الاجارة،معلومية الوقت والعمل،559/2، ط:مؤسسة الرسالة - بيروت)

المحیط البرہانی میں ہے:

"لأن المعروف كالمشروط كما في نقد البلد، فيكون العمل معلوماً وقد أستأجره لما يصلح أجراً."

(كتاب الإجارات،الفصل الثالث والثلاثون: في الاستصناع، 630/7، ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي فتاوى النسفي إذا كان القاضي يتولى القسمة بنفسه حل له أخذ الأجرة وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه، وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه، كذا في المحيط. واختلفوا في تقديره والمختار للفتوى أنه ‌إذا ‌عقد ‌بكرا ‌يأخذ ‌دينارا ‌وفي ‌الثيب نصف دينار ويحل له ذلك هكذا قالوا، كذا في البرجندي."

(كتاب أدب القاضي،الباب الخامس عشر في أقوال القاضي وما ينبغي للقاضي أن يفعل،345/3، ط: رشيدية)

کفایت المفتی میں ہے:

”نکاح خوانی کی اجرت کی شرعی حیثیت:

سوال: نکاح پڑھانے والے کو کچھ روپیہ نقد دینا سنت ہے یا مستحب؟ اور  نکاح پڑھانے والا نکاح پڑھانے سے پہلے کچھ نقد روپیہ مقرر کرے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور پھر جبراً وصول کرسکتا ہے یا نہیں؟   

جواب: نکاح پڑھانے والے کو نکاح خوانی کی اجرت دینا جائز ہے،  اور نکاح خواں پہلے اجرت مقرر کرکے  نکاح پڑھائے تو  یہ بھی جائز ہے،  اور اس کو مقرر شدہ اجرت جبراً وصول کرنے کا حق ہے۔“

(کتاب النکاح،    150/5، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101851

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں