
ایک آدمی نے کسی کی بیٹی کو گود لیا ہے اور شناختی کارڈ میں جس نے گود لیا والد کے خانے میں اسی کا نام لکھا ہے، اب اس لڑکی کا نکاح کرنا ہے تو نکاح پڑھاتے وقت اس گود لینے والے کا نام لیا جائے گا یا حقیقی والد کا؟درست طریقہ بتا دیں۔
اگر نکاح کے موقع پر حقیقی والد کا نام لیا جائے اور نکاح نامے میں گود لینے والے والد کا نام لکھ دیا جائے تو کیا ایسی صورت میں نکاح درست ہو جائے گا؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ لڑکی کے نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی کی ولدیت میں اس کے حقیقی والد کا ذکر کیا جائے، اگر لڑکی مجلس نکاح میں موجود نہ ہو اور گود لینے والے شخص کا نام ولدیت کی جگہ ذکر کر دیا جائے تو ایسی صورت میں یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، لہذا حقیقی والد ہی کا نام ولدیت میں لیا جائے۔
نیز شناختی کارڈ اور نکاح فارم وغیرہ دیگر کاغذات میں بھی حقیقی والد کا نام لکھنا ہی ضروری ہے، قرآن اور حدیث میں غلط ولدیت کے ساتھ پکارنے کو بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے، تاہم اگر شناختی کارڈ میں قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ولدیت کی تبدیلی ممکن نہ ہو، اور اسی بنا پر نکاح نامہ میں شناختی کارڈ کے مطابق ولدیت لکھوانا قانونی مجبوری ہو، تو غلط ولدیت کے اندراج پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا۔
قرآن کریم میں ہے:
’’اُدْعُوْهُمْ لِأٰبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ ، فَإِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا أٰبَائَهُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِي الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ، وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَا أَخْطَأْتُمْ بِهٖ ولٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ‘‘۔(الاحزاب:۵)
ترجمہ:…"تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تووہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تو تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں جو دل سے ارادہ کرکے کرو۔"(بیان القرآن)
ریاض الصالحین میں ہے:
"باب تحريم انتساب الإِنسان إِلَى غير أَبيه وَتَولِّيه إِلَى غير مَواليه
"عَنْ سَعْدِ بن أَبي وقَّاصٍ أنَّ النبيَّ ﷺ قالَ: مَن ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أنَّهُ غَيْرُ أبِيهِ فَالجَنَّةُ عَلَيهِ حَرامٌ. متفقٌ عليهِ".
ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس شخص نے اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جانتے ہوئے اپنا والد قرار دیا تو اس پر جنت حرام ہے۔
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:
"ولو غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها ولم تكن حاضرة لاينعقد النكاح.
قوله: ولم تكن حاضرة لاينعقد النكاح إلخ.
لأنها إذا لم تكن حاضرة تحتاج إلى تعيينها وتعريفها بنسبتها إلى أبيها.
وإذا وقع الغلط في اسم أبيها لم تتعين فلا ينعقد النكاح، وأما إذا كانت حاضرة فلا يضر الغلط في اسم أبيها لتعينها بالإشارة إليها فلا يحتاج إلى التعريف."
(الثالثة: ولاية المطالبة بإزالة الضرر العام عن طريق المسلمين، ٢ / ١١١ - ١١٢، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100715
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن