
ایک مولوی صاحب نےمسجدمیں گواہوں کی موجودگی میں ایک نکاح کروایاجس میں قبول کو ایجاب سے مقدم کردیا،اس طورپرکہ پہلےدولہاسےکہا:فلان بنت فلان آپ کواپنےنکاح میں قبول ہے؟یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے ،اوردولہانے قبول کہہ کرجواب دیا،حاضرین مجلس نے سُنا۔اس کےبعد مولوی صاحب نےدلہن کے والدجو ولی تھے اس کی طرف متوجہ ہوۓ او رکہا:کہ آپ نےاپنی بیٹی فلان ،کو فلان بن فلان کےنکاح میں بخش کردی (عرفی لفظ ہےنکاح کے لیے استعمال ہوتاہے) یہ الفاظ تین مرتبہ کہے،اورلڑکی کےوالدنےبھی تین مرتبہ جواب دیا۔اس کےبعدمجلس برخاست ہوئی ،ایک مولوی صاحب نےکہاکہ یہ نکاح منعقدہی نہیں ہوا؛کیوں کہ قبول ایجاب کے بعد ہوتاہے،جب کہ یہاں ایجاب ہواہی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ معاملات میں متعاقدین میں سےپہلےکے کلام کو"ایجاب "اوردوسرے کےکلام کو"قبول " کہاجاتاہے،اورنکاح میں گواہوں کی موجودگی میں ایک مرتبہ ایجاب اورقبول کاہونا ضروری ہوتاہے۔صورت مسئولہ میں ایجاب اور قبول اس طرح پائےگئے کہ لڑکے کاقبول کہہ کرجواب دینا ایجاب، اورلڑکی کےوالد کایہ کہناکہ میں نےاپنی بیٹی ، فلان بن فلان کےنکاح میں بخش دی جواب دیناقبول ہے، لہٰذاایجاب اور قبول گواہوں کی موجودگی میں پائے گئے ہیں ،توشرعانکاح منعقد ہوچکاہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
" (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت)نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(و) يقول الآخر (تزوجت) ."
"(قوله: من أحدهما) أشار إلى أن المتقدم من كلام العاقدين إيجاب سواء كان المتقدم كلام الزوج، أو كلام الزوجة، والمتأخر قبول. ح عن المنح. فلا يتصور تقديم القبول، فقوله: تزوجت ابنتك، إيجاب. وقول الآخر: زوجتكها. قبول ،خلافا لمن قال إنه من تقديم القبول على الإيجاب."
(كتاب النكاح،ج:3ص:9ط:سعيد)
وفیہ ایضاً:
" ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل. (قوله: ولا يشترط إلخ) أي فيما كان بلفظ ونكاح بخلاف ما كان كناية لما يأتي من أنه لا بد فيه من نية أو قرينة وفهم الشهود لكن قيد في الدرر عدم الاشتراط بما إذا علما أن هذا اللفظ ينعقد به النكاح أي: وإن لم يعلما حقيقة معناه. قال في الفتح لو لقنت المرأة زوجت نفسي بالعربية ولا تعلم معناه وقبل والشهود يعلمون ذلك أو لا يعلمون صح كالطلاق، وقيل لا كالبيع كذا في الخلاصة، ومثل هذا في جانب الرجل إذا لقنه ولا يعلم معناه. "
(كتاب النكاح،ج:3ص:15ط:سعيد)
الأشباه والنظائر میں ہے:
" القاعدة الحادية عشرة :السؤال معاد في الجواب:قال البزازي في فتاواه من آخر الوكالة وعن الثاني لوقال: امرأة زيد طالق وعبده حر وعليه المشي إلى بيت الله الحرام إن دخل هذه الدار. فقال زيد : نعم. كان زيد حالفاً بكله؛ لأن الجواب يتضمن إعادة ما في السؤال،... ."
(النوع الثاني من القواعد،ص:128 ط: رشيديه)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100301
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن