
میری عمر 20 سال ہے، میرے والدین نے میرا نکاح ایسے شخص سے کرانا چاہا جو میرا خالہ زاد ہے، جس کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہے، اس کی بیوی بھی موجود ہے اور چار بچے بھی ہیں، 13 جون کو میری لاعلمی میں وہ اچانک اپنی والدہ کو لے کر ہمارے گھر آیا، میرے والدین کو پہلے سے اس بات کا علم تھا، میرے والدین نے مجھے زبردستی اس کے ساتھ نکاح پر مجبور کیا، اور نکاح کی صورت یہ ہوئی کہ میرے والدین نے مجھ پر بہت زیادہ زبردستی کی اور بار بار مجھے کہہ رہے تھے کہ بتاؤ، ایک دن ظہر سے لے کر اگلے دن 10 بجے تک اصرار کرتے رہے،مجھ سے پوچھ رہے تھےکہ بتاؤ ہم کپڑے لے کر آ جائیں؟ میں نے تنگ آ کر غصے میں کہہ دیا کہ لے آئیں، پھر اس کے بعد نکاح کے وقت میرے پاس میرے والدین ،نکاح خواں اور میری خالہ مجھ سے پوچھنے کےلیےآۓ، تو میں نےکہاکہ بتاتودیاتھا(یعنی گزشتہ روزکہ جاکر کپڑے لے آؤ) اس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی، نہ ایجاب نہ قبول اور نہ ہی میں نے کسی کو اختیار دیا ،میری خالہ نے کہا کہ لڑکی نے والد کو اختیار دے دیا ہے ،اور مجھے مہر کا بھی کوئی علم نہیں کہ مہر کیا مقرر کیا گیا ہے ،اب مجھے اس بات کا علم تھا کہ زبردستی نکاح نہیں ہوتا ،اسی کو ذہن میں رکھ کر میں نے والدین کو کپڑے لانے کی اجازت دے دی ،میرا دل اور دماغ ابھی تک اس کی زوجیت کو تسلیم نہیں کرتا ۔
برائے کرم رہنمائی فرمائے کہ نکاح ہو گیا ہے یا نہیں ؟ اگر ہو گیا ہے تو خلع کی کیا صورت ہے ؟
وضاحت1: مذکورہ واقعہ کے بعد بھی ایجاب و قبول نہیں ہوا، لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی خلوت ہو ئی ہے۔
2:نکاح کے موقع پر نکاح خواں،لڑکی کے والدین اور لڑکی کی خالہ موجود تھی،اس کے بعد جب لڑکی سے نکاح کی اجازت چاہی تو لڑکی نے کہا کہ بتاتودیاتھا اور لڑکی وہاں سے چلی گئی،لڑکی کی مراد گزشتہ روز جو اس نے کپڑے لانے کی اجازت دی تھی ،اس کی طرف اشارہ تھا،اس کے بعد اسی کو والدین نے اجازت سمجھ کر لڑکی کے والد نے ایجاب کیا،ابھی تک نکاح فارم وغیرہ نہیں بنا ہے۔
واضح رہے کہ بالغہ عاقلہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا ،چاہے وہ نکاح ولی کرے یا ولی کے علاوہ کوئی اور کرے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً لڑکی نے اپنےوالد کو ا پنےنکاح کا وکیل نہ بنایا ہو،نہ ہی کسی کواپنے نکاح کا اختیار دیاہواور نہ ہی یہ نکاح ہونے کے بعد اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو یہ نکاح شرعاً درست نہیں ہوا،لہذا لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
الدرالمختار میں ہے:
"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو فضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت)فلو بصوت لم يكن إذنا ولا ردا حتى لو رضيت بعده انعقد.معراج وغيره، فما في الوقاية والملتقى فيه نظر (فهو إذن) أي توكيل في الاول إن اتحد الولي، فلو تعدد الزوج لم يكن سكوتها إذنا وإجازة في الثاني إن بقي النكاح لا لو بطل بموته، ولو قالت بعدموته: زوجني أبي بأمري وأنكرت الورثة فالقول لها فترث وتعتد، ولو قالت: بغير أمري لكنه بلغني فرضيت فالقول لهم وقولها غيره أولى منه رد قبل العقد لا بعده.ولو زوجها لنفسه فسكوتها رد بعد العقد لا قبله، ولو استأذنها في معين فردت ثم زوجها منه فسكتت صح في الاصح، بخلاف ما لو بلغها فردت ثم قالت: رضيت لم يجز لبطلانه بالرد، ولذا استحسنوا التجديد عند الزفاف، لان الغالب إظهار النفرة عند فجأة السماع، ولو استأذنها فسكتت فوكل من يزوجها ممن سماه جاز إن عرف الزوج والمهر كما في القنية واستشكله في البحر بأنه ليس للوكيل أن يوكل بلا إذن، فمقتضاه عدم الجواز أو أنها مستثناة (إن علمت بالزوج) أنه من هو لتظهر الرغبة فيه أو عنه، ولو في ضمن العام كجيراني أو بني عمي لو يحصون وإلا لا ما لم تفوض له الامر (لا) العلم(بالمهر) وقيل يشترط، وهو قول المتأخرين، بحر عن الذخيرة وأصقره المصنف، وما صححه في الدرر عن الكافي رده الكمال."
(کتاب النکاح باب الولي،ص:183،ط:دارالکتب العلمية،بیروت)
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
"عاقلہ بالغہ کا نکاح بغیر اس کی رضا مندی اور اجازت کے منعقد نہیں ہوتا ۔ پس مسئولہ صورت میں جبکہ مسماۃ راستی نے نہ ایجاب و قبول کیا ہے اور نہ اس سے اجازت لی گئی ہے تو یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا۔ لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہے۔ "
(کتاب النکاح،باب اول نکاح کی شرطیں اور اس کی منعقد ہونے کی صورتیں،ج:4،ص:53،ط:جمعیۃ پبلیکشنز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101118
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن