
ہمارے علاقے لکی مروت اور بنوں کی کچھ نہریں سرکاری نہیں، بلکہ نجی (پرائیویٹ) نہریں ہیں، جن کا ٹھیکہ خان یا ملک لے کر عوام تک پانی پہنچانے، نہر کی صفائی وغیرہ کا سارا انتظام اپنے ملازموں کے ذریعے کر لیتے ہیں۔ اس کے بدلے وہ عوام سے سالانہ پیداوار کا چھٹا حصہ گندم کی صورت میں لیتے ہیں۔
اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ گندم کا یہ معین حصہ لینا ان کے لیے جائز ہے یا ناجائز؟ حالاں کہ یہ باہمی معاہدہ تقریباً سو سال سے چلتا آ رہا ہے۔ اگر یہ ناجائز ہے تو اس کا جائز طریقہ کار کیا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں خان / ملک وغیرہ کا عوام تک بالعوض پانی پہنچانادرست ہے ، البتہ مذکورہ معاملہ "اجارہ " کی ایک صورت ہے اور شرعاً اجارہ کے درست ہونے کے لیے اجرت کا معلوم و متعین ہونا ضروری ہوتا ہے،اجرت کی جہالت کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے اور اجیر یعنی ملازم کو کام کرنے کی صورت میں اجرت مثل ملتی ہے،چناں چہ خان / ملک وغیرہ کا پانی کاانتظام کرنے کے عوض پیداوار کے متعین حصے (چھ فیصد)کی شرط لگانا یا متعین پیداوار وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
البتہ اس معاملے کے جواز کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں:
1: ٹھیکیدار (خان یا ملک) زمینداروں کے ساتھ پانی پہنچانے اور نہر کی صفائی کی اجرت فصل کے حصے کے بجائے نقد رقم کی صورت میں طے کر لے۔مثلاً: فی ایکڑ یا فی کنال کے حساب سے ایک متعین رقم طے کر لی جائے۔ اب فصل اچھی ہو یا بری، ٹھیکیدار کو اس کی مقررہ رقم مل جائے گی۔
2: اگر نقد رقم طے کرنا مشکل ہو اور گندم ہی دینا مقصود ہو، تو فصل کے فیصد یا حصے (چھٹے حصے) کے بجائے گندم کا وزن (من یا کلوگرام) طے کر لیا جائے۔مثلاً: یہ معاہدہ ہو کہ فی ایکڑ زمین کو پانی دینے اور نہر صاف کرنے کے بدلے زمیندار، ٹھیکیدار کو "دو من گندم" یا "پچاس کلو گندم" دے گا۔
درِ مختار میں ہے:
"(الفاسد) من العقود (ما كان مشروعاً بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعاً أصلاً) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوماً، ابن كمال. "
(کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة،ج:6، ص:45،ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل".
(کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة،ج:6، ص:46،ط: سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
(قوله: وشرطها إلخ) هذا على أنواع: بعضها شرط الانعقاد، وبعضها شرط النفاذ، وبعضها شرط الصحة، وبعضها شرط اللزوم، وتفصيلها مستوفى في البدائع ولخصه ط عن الهندية. (قوله: كون الأجرة والمنفعة معلومتين) أما الأول فكقوله: بكذا دراهم أو دنانير وينصرف إلى غالب نقد البلد، فلو الغلبة مختلفة فسدت الإجارة ما لم يبين نقداً منها فلو كانت كيلياً أو وزنياً أو عددياً متقارباً فالشرط بيان القدر والصفة وكذا مكان الإيفاء لو له حمل ومؤنة عنده، وإلا فلايحتاج إليه كبيان الأجل، ولو كانت ثياباً أو عروضاً فالشرط بيان الأجل والقدر والصفة لو غير مشار إليها، ولو كانت حيوانا فلا يجوز إلا أن يكون معينا بحر ملخصاً".
(کتاب الإجارة،شروط الإجارة،ج:6، ص:5،ط: سعيد)
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما الذي يرجع إلى ما يقابل المعقود عليه وهو الأجرة والأجرة في الإجارات معتبرة بالثمن في البياعات لأن كل واحد من العقدين معاوضة المال بالمال فما يصلح ثمنا في البياعات يصلح أجرة في الإجارات وما لا فلا وهو أن تكون الأجرة مالا متقوما معلوما وغير ذلك مما ذكرناه في كتاب البيوع.والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم :من استأجر أجيرا فليعلمه أجره . والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان."
(كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:193، ط:دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100239
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن