بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نجاست مرئیہ اور غیر مرئیہ کو پاک کرنے کا طریقہ /نلکے کاپانی ماء جاری کے حکم میں ہے یا نہیں


سوال

1۔میں نے تعلیم الاسلام میں پڑھا کہ چاہے کپڑے پر کوئی  بھی نجاست لگی ہو ہر صورت میں اس کو دھونے کے بعد نچوڑنا ضروری ہے ۔اور بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ اگر غیر مرئیہ  نجاست لگی ہو تو اس کو نچوڑا جائے اور اگر مرئیہ  نجاست لگی ہو تو اس کو صرف زائل  کیا جائے۔ان میں سے درست کون ہے؟

2۔جو کہا جاتاہے کہ کپڑے کو دھونے کے بعد نچوڑا جائے یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے، اس سے مراد کیا ہے؟ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ مزید نچوڑنے سے پانی نا ٹپکے یا اس سے مراد ہے کہ اگر اس کپڑے کو نچوڑنے کے بعد اگر کپڑے کو لٹکا دیا جائے تو اس سے پانے نہیں ٹپکنا چاہیے ،صحیح کون سی بات ہے؟

3۔کیا نلکا بھی جاری پانی میں آتا ہے ؟

ایک چیز نے مجھے الجھن میں ڈالا ہے، مہربانی کرکے پوری وضاحت کریں ،آدھے کہتے ہیں کہ نلکے کے نیچے ناپاک کپڑے کو دھویا جائے تو اس کو تین بار دھویا جائے اور ہر مرتبہ نچوڑا جائے ،آدھے کہتے ہیں ناپاک کپڑے کو نلکے کے  نیچے ویسے ہی دھویا جائے جیسے ناپاک کپڑے کو بہتے ہوے پانی(ماء جاری) میں دھویا جاتا ہے ۔ان دونوں طریقوں میں سے صحیح کون ہے اور بہتر اور آسان طریقہ کون  ساہے ؟

جواب

1۔مسئلہ یہ ہے کہ اگر نجاست مرئیہ ہو،یعنی خشک ہونے کے بعد بھی  نظر آئے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پانی سے اس طرح دھویا جائے کہ وہ نجاست دور ہوجائے  ،اب چاہے وہ ایک مرتبہ میں دور ہو یا ایک سے زائد مرتبہ دھونے کے بعد دور ہو ،اسی طرح اس میں نجاست دور ہونے کے بعد کپڑے کو نچوڑنا  ضروری نہیں ،البتہ تین مرتبہ سے کم میں نجاست دور ہوجائے تو تین مرتبہ دھونا بہتر ہے۔

اور اگر نجاست غیر مرئیہ ہو ،یعنی خشک ہونے کے بعد نظر نہ آئے، جیسے پیشاب،تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ پانی سے دھویا جائے اور ہر مرتبہ دھونے کے بعد نچوڑا بھی جائے۔

صورت مسئولہ میں تعلیم الاسلام اور بہشتی زیور کی عبارت میں سائل کو جو تعارض نظر آرہا ہے وہ  درحقیقت اجمال اور تفصیل کا فرق ہے ،تعلیم الاسلام  چونکہ ایک مختصر کتاب ہے تو اس میں مسائل اختصار کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں ،چنانچہ تعلیم الاسلام  میں  نجاست ِ حقیقیہ (غلیظہ ہو یا خفیفہ ) کو تین مرتبہ دھونے اور نچوڑ نے کا ذکر  کیا گیا ہے،اس میں مرئیہ غیر مرئیہ کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے ؛کیونکہ عموما ًمرئیہ  نجاست بھی تین مرتبہ دھونے  اور نچوڑنے سے پاک ہوجاتی ہے ،اس لئے غالبا ً اسی پر اکتفا کیا گیا۔البتہ بہشتی زیور میں چونکہ مسائل تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ،لہذا وہاں مذکورہ مسئلہ سے متعلق بھی مکمل تفصیل اور مرئیہ غیرمرئیہ کے حکم میں فرق ذکر کیا گیا ہے۔

تعلیم الاسلام میں ہے:

’’نجاست حقیقیہ  چاہے غلیظہ ہو یا خفیفہ ،کپڑے پر ہو یا بدن پر ،پانی سے تین بار دھولینے سے پاک ہوجاتی ہے ،کپڑے کو تینوں دفعہ نچوڑنا بھی ضروری ہے۔‘‘

(دوسرا حصہ ،صفحہ :41 ط:الطاف اینڈ سنز)

بہشتی زیور میں ہے:

"مسئلہ (12):اگر دلدار نجاست لگ جائے جیسے پاخانہ خون تو اتنا  دھوئے کہ نجاست چھوٹ جائے اور دھبہ جاتا رہے  چاہے جتنی دفعہ  میں چھوٹے۔جب نجاست چھوٹ جائے گی تو کپڑا پاک ہوجائے گا  اور  اگر بدن میں لگ گئی تو تو اس کا بھی یہی حکم  ہے ۔البتہ اگر پہلی ہی دفعہ میں نجاست  چھوٹ گئی تو دو مرتبہ  اور دھولینا بہتر ہے اور اگر دومرتبہ میں چھوٹی ہے تو ایک مرتبہ  اور دھولے غرضیکہ تین بار پورے کرلینا بہتر ہے۔

مسئلہ (14): اور اگر پیشاب کے مثل کوئی نجاست لگ گئی  جو دلدار نہیں ہے تو تین مرتبہ دھوئے  اور ہر مرتبہ نچوڑے اور تیسری مرتبہ اپنی طاقت بھر خوب زور سے نچوڑے تب پاک ہوگا تو اگر خوب زور سے  نہ  نچوڑے گی تو کپڑا پاک نہ ہوگا۔"

(بہشتی زیور مکمل،ص:74،ط:توصیفی پبلی کیشنز)

فتا وی شامی میں ہے:

"وكذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي: بزوال عينها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح ...(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى.(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر).

(قوله: بقلعها) فيه إيماء إلى عدم اشتراط العصر، وهو الصحيح على ما يعلم من كلام الزيلعي حيث ذكر بعد الإطلاق أن اشتراط العصر رواية عن محمد، وعليه فما يبقى في اليد من البلة بعد زوال عين النجاسة طاهر تبعا لطهارة اليد في الاستنجاء بطهارة المحل، وله نظائر كعروة الإبريق تطهر بطهارة اليدين، وعلى هذا إذا أصاب خفيه في الاستنجاء من الماء المتنجس فإنهما يطهران بطهارة المحل تبعا حيث لم يكن بهما خرق. اهـ. أبو السعود عن شيخه.

(قوله: وأثرها) يأتي بيانه قريبا. (قوله: ولو بمرة) يعني إن زال عين النجاسة بمرة واحدة تطهر، سواء كانت تلك الغسلة الواحدة في ماء جار أو راكد كثير أو بالصب أو في إجانة، أما الثلاثة الأول فظاهر، وأما الإجانة فقد نص عليها في الدرر حيث قال: غسل المرئية عن الثوب في إجانة حتى زالت طهر. اهـ. ح. (قوله: أو بما فوق ثلاث) أي: إن لم تزل العين والأثر بالثلاث يزيد عليها إلى أن تزول ما لم يشق زوال الأثر. (قوله: في الأصح) قيد لقوله ولو بمرة. قال القهستاني وهذا ظاهر الرواية، وقيل: يغسل بعد زوالها مرة، وقيل: مرتين، وقيل: ثلاثا كما في الكافي. اهـ

قوله: بلا عدد به يفتى) كذا في المنية. وظاهره أنه لو غلب على ظنه زوالهما بمرة أجزأه وبه صرح الإمام الكرخي في مختصره واختاره الإمام الإسبيجابي. وفي غاية البيان أن التقدير بالثلاث ظاهر الرواية. وفي السراج اعتبار غلبة الظن مختار العراقيين، والتقدير بالثلاث مختار البخاريين والظاهر الأول إن لم يكن موسوسا وإن كان موسوسا فالثاني اهـ بحر. قال في النهر وهو توفيق حسن اهـ وعليه جرى صاحب المختار، فإنه اعتبر غلبة الظن إلا في الموسوس، وهو ما مشى عليه المصنف واستحسنه في الحلية وقال: وقد مشى الجم الغفير عليه في الاستنجاء.

أقول: وهذا مبني على تحقق الخلاف، وهو أن القول بغلبة الظن غير القول بالثلاث. قال في الحلية: وهو الحق، واستشهد له بكلام الحاوي القدسي والمحيط.

أقول: وهو خلاف ما في الكافي مما يقتضي أنهما قول واحد، وعليه مشى في شرح المنية فقال: فعلم بهذا أن المذهب اعتبار غلبة الظن وأنها مقدرة بالثلاث لحصولها به في الغالب وقطعا للوسوسة وأنه من إقامة السبب الظاهر مقام المسبب الذي في الاطلاع على حقيقته عسر كالسفر مقام المشقة اهـ. وهو مقتضى كلام الهداية وغيرها، واقتصر عليه في الإمداد، وهو ظاهر المتون حيث صرحوا بالثلاث -والله أعلم -"

 (کتاب الطہارۃ،باب الأنجاس،1/ 328،ط:سعید)

2۔’’کپڑا دھونے کے بعد اس کو اتنا نچوڑاجائے  کہ پانی ٹپکنا بند ہوجائے‘‘ سے  مراد یہ ہے کہ دھونے والے کے مزید نچوڑنے سے پانی نہ ٹپکے،یہ مراد نہیں ہے کہ اگر کپڑے کو لٹکادیا جائے تو اس سے پانی نہ ٹپکے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر، ولو كان لو عصره  غيره قطر طهر بالنسبة إليه دون ذلك الغير، ولو لم يبالغ لرقته هل يطهر؟ الأظهر نعم للضرورة.

(و) قدر (بتثليث جفاف) أي: انقطاع تقاطر (في غيره) أي: غير منعصر مما يتشرب النجاسة.

(قوله: طهر بالنسبة إليه) ؛ لأن كل أحد مكلف بقدرته ووسعه ولا يكلف أن يطلب من هو أقوى ليعصر ثوبه شرح المنية. قال في البحر خصوصا على قول أبي حنيفة إن قدرة الغير غير معتبرة وعليه الفتوى."

( کتاب الطہارۃ،باب الأنجاس،1/ 331،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته وفي غير رواية الأصول يكتفي بالعصر مرة وهو أرفق. كذا في الكافي وفي النوازل وعليه الفتوى. كذا في التتارخانية والأول أحوط. هكذا في المحيط."

(کتاب الطہارۃ،الباب السابع في النجاسة وأحكامها،الفصل الأول في تطهير الأنجاس،1/ 42،ط:دار الفکر)

3۔ نلکے سے  بہنے والا پانی ماء جاری کے حکم میں ہے،،چنانچہ اس پانی کے نیچے کپڑے  دھونے کا وہی حکم ہے جو ماء جاری(بہتے ہوئے پانی ) سے کپڑے دھونے کا حکم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والجاري (هو ما يعد جاريا) عرفا، وقيل ما يذهب بتبنة، والأول أظهر، والثاني أشهر.

(قوله: والأول أظهر) أي وأصح كما في البحر والنهر، لتعويله على العرف ولجريانه على قاعدة الإمام من النظر إلى المبتلين ط، لكن استشكل بأنه لا يتعين أصلا لتعدده واختلافه بتعدد العادين واختلافهم.(قوله: والثاني أشهر) لوقوعه في كثير من الكتب حتى المتون. وقال صدر الشريعة وتبعه ابن الكمال: إنه الحد الذي ليس في دركه حرج، لكن قد علمت أن الأول أصح والعرف الآن أنه متى كان الماء داخلا من جانب وخارجا من جانب آخر يسمى جاريا وإن قل الداخل، وبه يظهر الحكم في برك المساجد ومغطس الحمام مع أنه لا يذهب بتبنة، والله أعلم."

(كتاب الطهارة،باب المياه،187/1،ط:سعيد)

وفيه أيضا:

"ثم المختار طهارة المتنجس بمجرد جريانه وكذا البئر وحوض الحمام.

(قوله: بمجرد جريانه) أي بأن يدخل من جانب ويخرج من آخر حال دخوله وإن قل الخارج بحر. قال ابن الشحنة: لأنه صار جاريا حقيقة، وبخروج بعضه رفع الشك في بقاء النجاسة فلا تبقى مع الشك".

(با ب المیاہ،ج:1،ص:195،ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144609102393

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں