بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نگرانی کے لیے بنات کے درس گاہوں میں کیمرہ لگانا


سوال

ایک اسکول ہے جہاں بچیوں کو درسِ نظامی اور حفظ کی تعلیم دی جاتی ہے، اور کلاس میں کیمرے لگے ہیں۔ سر کیمرے میں سب کو دیکھتے ہیں، بچیوں اور معلمات دونوں کو شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

کیمرہ لگانا بذاتِ خود ناجائز ہے، کیمرہ پہلے تصویر بناتا ہے، پھر اسے ظاہر کرتا ہے۔ شرعی طور پر اس کیمرے کی تصویر و ویڈیو بھی ناجائز اور حرام تصویر میں شامل ہے۔

پھر بالخصوص بنات کی درس گاہوں میں کیمرہ لگانااور ان کی نقل وحرکت کی نگرانی کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔ مزید قباحت یہ کہ کو کوئی مرد اس کیمرے کو آپریٹ کرے؛ کیوں کہ اس میں نامحرموں  کو دیکھنے کا گناہ بھی ہے، اور یہ کئی مفاسد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لڑکیوں کی درس گاہ میں کیمرہ لگانا شرعاً جائز نہیں۔ جہاں تک نگرانی کا تعلق ہے، یہ کام بغیر کیمرہ کے بھی معتمد معلمات کے ذریعے بخوبی انجام دیا جا سکتا ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں