بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نباہ نہ ہونے کی بنا پر خلع کی صورت میں ادا شدہ مہر کی واپسی اور حمل ساقط کرنے کا شرعی حکم


سوال

1-ایک شخص کی لگ بھگ چھ ماہ قبل شادی ہوئی ہے، لیکن باہمی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے نوبت خلع تک پہنچ گئی ہے، اور صورتِ حال یہ ہے کہ اس کی بیوی حاملہ ہے، جب کہ حمل کو ابھی تقریباً دو ماہ ہوئے ہیں۔

اب ایسی صورت میں کیا حمل ساقط کروایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیوں کہ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں اس کے حقوق وابستہ ہو جائیں گے، اور جانبین کے لیے آئندہ چل کر مشکلات کا سامنا ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ خدشات لڑکے کی جانب سے ظاہر کیے جا رہے ہیں، جب کہ لڑکی والوں کی طرف سے تحریری فتویٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

2-دوسرا سوال یہ ہے کہ لڑکا جو مہر کی رقم ادا کر چکا ہے، کیا وہ اسے واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟

وضاحت:حمل ساقط کرنے کا مطالبہ شوہر کی جانب سے ہے، جب کہ لڑکی والے کہتے ہیں: فتویٰ کے مطابق عمل کریں گے۔

جواب

1-واضح رہے کہ حمل سے اگر عورت کی جان کو خطرہ  ہو ، یا کسی شدید مضرت  کا اندیشہ   ہو ، یا  حمل سے عورت کا دودھ بند ہوجائے  یا خراب ہوجائے جس  سےپہلے بچے کو نقصان ہو   تو ایسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے  (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    حمل  ساقط کرنے کی گنجائش ہوتی ہے،البتہ شرعی عذر کے بغیر حمل ساقط کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ کوئی شرعی عذر موجود نہیں ہے، اس لیے حمل ساقط کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ۔

2- اگر میاں بیوی کی رضامندی سے خلع واقع ہو تو اس میں جو عوض طے ہو  وہی بیوی کے ذمے شوہر کو ادا کرنا لازم ہوگا، اگر خلع مہر کے عوض ہو  اور شوہر نے اب تک مہر ادا نہ کیا ہو تو شوہر پر مہر ادا کرنا لازم نہیں ہوگا،  اور  اگر شوہر نے مہر ادا کر دیا ہو تو بیوی پر شوہر کا ادا کیا ہوا مہر لوٹانا ضروری ہو گا۔

مذکورہ صورت میں چوں کہ شوہر مہر کی رقم ادا کرچکا ہے، اس لیے ایسی صورت میں اگر خلع مہر کے عوض ہوئی ہوتو بیوی پر شوہر کا ادا کیا ہوا مہر لوٹانا ضروری ہوگا، تاہم اگر نشوز (شوہر کی جانب سے زیادتی، بدسلوکی یا حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی)مرد کی جانب ہے تو شوہر کے لیے ادا کردہ مہر کی رقم واپس لینا درست نہیں، ایسی صورت میں بغیر عوض کے خلع کا معاملہ کیا جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ.."

( کتاب النکاح، باب نکاح الرقیق، مطلب في حكم إسقاط الحمل، ج:3، ج:176، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.

إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.

وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان. "

( كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:488، ط: دار الفكر)

”سوال:میں جن صاحب کے یہاں معالج ہوں وہ لاولد ہیں، جب پہلی بیوی سے کچھ اولاد نہ ہوئی تو با صرار والدین دوسری شادی کی، لیکن طبیعت اُس سے مانوس نہیں، اب اس دوسری بیوی کو دو ماہ کا حمل ہے، اُن صاحب کی فرمائش ہے کہ ایسی کوئی ترکیب ہو کہ اس کا حمل  گرجائے، اگر ہو تو اولاد پہلی سے ہو، بندہ نے ابتک کچھ جواب اُن کو نہیں دیا ، حضور ارشاد فرمائیں کہ دو ماہ کا حمل گرانا جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب:۔۔۔۔روایات مرقومہ سے معلوم ہوا کہ صورت مسئولہ میں اگر تحقیق فن سے حمل میں جان پڑ نا محتمل ہو تب تو مطلقا حمل گرانا حرام اور موجب قتل نفس زکیہ ہے، اور اگر جان نہیں پڑی سو اگر کوئی عذر صحیح ہوتا  تواسقاط جائز تھا، لیکن چونکہ کوئی عذر نہیں ہے اور یہ امر کہ نفس نہیں گوارا کرتا کہ پہلی کے اولاد نہ ہوا ور دوسری کے ہو جائے، یہ شرعاً عذر مقبول نہیں، لہذا یہ فعل نا جائز ہوگا، کو قتل کا سا گناہ نہیں،مگر خود یہ فعل بھی معصیت ہے۔”

(ج:4، ص:203، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں