
میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا، لیکن بعد از نکاح یہ حقائق سامنے آئے کہ لڑکی کے والدین نے نکاح کے وقت کئی اہم امور مجھ سے چھپائے۔
1. انہوں نے لڑکی کی سابقہ شادیوں کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کیں۔
2. انہوں نے لڑکی کی دماغی و نفسیاتی بیماری کو مکمل طور پر چھپایا۔
3. لڑکی کی دینی تعلیم اور کردار کے بارے میں بھی غلط بیانی کی گئی۔
اب لڑکی خود طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، اور اس نے ازدواجی حقوق ادا کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے، جبکہ اس کے پاس کوئی شرعی عذر بھی نہیں۔ میں نے نکاح کے وقت حق مہر آٹھ ہزار روپے معجل ادا کیا تھا جبکہ دو تولہ سونا غیر معجل (مؤخر) تھا جو ابھی تک ادا نہیں کیا گیا۔ اب لڑکی اور اس کے والدین اسی غیر معجل مہر کو بطور دباؤ (بلیک میلنگ) کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ نکاح کے وقت انہوں نے دھوکہ دہی اور حقائق چھپانے کا ارتکاب کیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا ایسی صورت میں نکاح کو فسخ کیا جا سکتا ہے؟
2. کیا میں شرعاً عدالت یا دارالافتاء سے نکاح فسخ کا حق رکھتا ہوں؟
3. اگر نکاح فسخ ہو جائے تو کیا اس صورت میں عورت مہر (خصوصاً غیر معجل مہر) کی حق دار ہوگی یا نہیں؟
4. قرآن و سنت کی روشنی میں ایسے جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے والے والدین کے بارے میں کیا حکم ہے جنہوں نے اپنی بیٹی کے نکاح میں غلط معلومات دے کر نکاح کروایا؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ کی روشنی میں مکمل شرعی راہ نمائی فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں جب نکاح ہوگیا ہے اولاً سائل اور اس کی بیوی کو چاہیے کہ وہ اس رشتہ کو نبھانے کی کوشش کرے، سائل کی بیوی کا ازدواجی حقوق ادا کرنے سے منع کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر سمجھانے کے باوجود نباہ نہ ہوسکے اور سائل نکاح کو ختم کرنا ہی بہتر سمجھے تو وہ طلاق دے کر نکاح ختم کرسکتا ہے، کیوں کہ طلاق دینے کا اختیار مرد کو ہے،باقی بیوی سے دخول یا خلوت ہونے کے بعد سائل کے ذمہ مکمل مہر ادا کرنا واجب ہے، اگر طلاق کا مطالبہ بیوی کی طرف سے ہے تو سائل اسے طلاق دینے کی بجائے مہر کی معافی کی عوض خلع دے دے، بیوی سے کہے کہ اگر وہ علیحدگی چاہتی ہے تو مہر کی معافی کے عوض خلع کا مطالبہ کرے۔
لڑکی کے والدین کا رشتہ کراتے وقت جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا شرعاً جائز نہیں تھا، گناہ کا کام تھا جس پر وہ دونوں صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما."
(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:441، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:304، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102216
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن