
ایک شخص کافی عرصے سے نفسیاتی بیماری کا شکار ہے اور اس بیماری کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے نفسیات کی ادویات اور انجیکشن استعمال کرتا رہا ہے، گزشتہ تقریباً چار ماہ سے اس نے اپنی ادویات اور انجیکشن لینا چھوڑ دیا تھا،اسی دوران ایک رات تقریباً دو بجے وہ اچانک اٹھا اور اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اس کے بعد صبح وہ ہمارے گھر آیا اور کہا کہ "میں نے اسے فارغ کر دیا ہے، اب بتائیں کیا کرنا ہے۔"
مزید یہ کہ کچھ عرصہ پہلے بھی اس شخص نے طلاق دی تھی، جس پر جامعہ بنوریہ سے فتویٰ حاصل کیا گیا تھا، اور وہاں سے یہ جواب ملا تھا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی تھی۔
اب موجودہ صورتِ حال میں سوال یہ ہے کہ اس شخص کی ذہنی حالت اور ادویات ترک کرنے کے پس منظر میں دی گئی طلاق شرعاً واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
وضاحت:الفاظ طلاق کے یہ تھے کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"۔
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے رات کو اپنی بیوی کو ان الفاظ سے تین طلاقیں دیں کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"، اور صبح کو اسے یاد بھی تھا کہ اس نے آکر گھر میں بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو فارغ کر دیا ہے، بتائیں کیا کرنا ہے، تو اس سے اس شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو چکا ہے، اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے، شوہر کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ رہنا حرام ہے، مذکورہ شخص کی بیوی اپنی عدت مکمل تین ماہواریاں بشرط یہ کہ حاملہ نہ ہو، اور حمل کی صورت میں وضع حمل تک کا عرصہ گزار کا دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الطلاق، الباب الأول، فصل فیمن یقع طلاقه، 1/ 353، ط: دارا لفکر)
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے :
"فإن ظل الشخص في حالة وعي وإدراك لما يقول فيقع طلاقه."
(البَابُ الثَّاني: انحلال الزَّواج وآثاره، الفَصْلُ الأوَّل: الطَّلاق، طلاق الغضبان، ج:9، ص:6883، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100738
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن