
گاؤں کی ایک جا مع مسجد ہے،جسے ایک بندے نے زبانی وقف کیا تھا، قانونی طور پر اس کی رجسٹری نہیں کروائی تھی، وہ شخص ابھی بھی حیات ہے،مسجد میں 35 سال سے نمازیں بھی پڑھی جارہی ہیں،مسجد کے متولی پہلے مسجد کے امام صاحب تھے، اس کے بعد واقف کابیٹا مسجد کا متولی بن گیا ہے،ابھی اس کی تعمیر کافی کمزور ہوگئی ہے،دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، محلے والےاس میں چھوٹی موٹی خرابی ٹھیک کردیتے ہیں،لیکن ایک تنظیم والے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اس مسجد کے وقف ہونے کی قانونی اعتبار سے رجسٹری کروا دیں، اس کے بعد ہم اس کی مکمل تعمیر ٹھیک کردیں گے، اسی طرح پہلے بھی ایک دفعہ پانی کی بورنگ کرنے والے آئے تھے، انہوں نے بھی یہ کہا تھا کہ آپ اس کے وقف ہونے کی قانونی اعتبار سے رجسٹری کروادیں، تو ہم آپ کے لیے بورنگ کردیں گے، اسی طرح سولر پینل لگانے والے آئے تھے، انہوں نے بھی رجسٹری کا کہا تھا، ان ساری صورتوں میں گاؤں والے وقف کرنے والے کے پاس گئے،اور اس سے کہا کہ اس کی رجسڑی کرواتے ہیں،پہلے وہ شخص تیار تھا،لیکن ابھی وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میرا بیٹا جیسے کہے گا اسی طرح کریں گے، اس کا بیٹا یہ کہہ رہا ہے کہ زبانی ہم نے وقف کردیا ہے، قانونی رجسٹری نہیں کروائیں گے،اور رجسٹری کرانےکے لیے تیار نہیں ہے، جبکہ محلے والے کہتے ہیں کہ آپ وقف کی رجسٹری کروالیں ،باقی متولی آپ خود، یا اپنی مرضی سے کسی کو بنا لے، مگر وہ کسی طرح تیار نہیں ہے، اسی طرح بعض اوقات ایسی باتیں کرتا ہے جن سے لگتا ہے یہ اس کو اپنی ملکیت سمجھ رہا ہے،مثلاً : کوئی اس میں ایک اینٹ بھی نہیں لگا سکتا، وغیرہ وغیرہ، اس ساری صورتحال کی وجہ سے محلے کے امام اور اکثر لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے، آس پاس کی مساجد میں نماز پڑھ رہے ہیں، صرف دو تین بندے وہاں نماز پڑھتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ :
1۔گاؤں والوں کے لیے اس مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟اور گاؤں ولے جو اس مسجد میں نماز نہیں پڑھ رہے ہیں، اور آس پاس کی مساجد میں جارہے ہیں تو ان کا یہ عمل صحیح ہے ؟ اپنی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے وہ گناہ گار تو نہیں ہوں گے ؟
2۔نیز وقف کرنے والا زبانی وقف کا تو اقرار کررہا ہے، البتہ قانونی رجسٹری نہیں کروارہا ہے، تو آیا اس پر قانونی رجسٹری کروانا لازمی ہے یا نہیں ؟ (جبکہ رجسٹری پر ہی مسجد کی تعمیر وغیرہ کے اکثر کام موقوف ہیں)۔
3۔ نیز محلے والوں کا اس مسجد کے قریب دوسری مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ مسجدکے لیے جگہ زبانی وقف کرنے سے وقف ہوجاتی ہے،چاہے اس کی قانونی رجسٹری کی ہو یا نہ کی ہو ،نیز وقف کرنے کے بعد مذکورہ جگہ واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے،واقف کی ملکیت اس میں باقی نہیں رہتی ،لہذا صورت مسئولہ میں واقف نے مذکورہ جگہ جب مسجد کے لیے وقف کردی تھی،اور اس جگہ پر 35 سال سے اب تک نمازیں بھی پڑھی جارہی ہیں تو ایسی صورت میں یہ شرعی مسجد ہے،واقف کی ملکیت اس پر باقی نہیں رہی، واقف کو چاہیے کہ وقف نامہ تحریری طور پر تیار کرکے دیگر قانونی تقاضے بھی پورے کرے،تاکہ مسجد کے انتظام و انصرام میں آسانی ہو، اور کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہے، اور نہ ہی کسی کو دعوی مورثیت کے مواقع مل سکے، البتہ اس میں انتظام و انصرام کا اختیار اور تولیت وقف کنندہ اپنے ہاتھ میں رکھ سکتا ہے۔
نیز اگر مسجد کی تعمیر کی ضرورت پیش آجائے، اور مسجد کے منہدم ہونے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی تعمیر کی ذمہ داری متولی پر لازم ہے،اور اگر متولی تعمیر نہ کروائے، اور تعمیر میں رکاوٹ بنے تو ایسی صورت میں مسجد کو نقصان پہنچنے کی صورت میں متولی گناہ گار ہوگا۔اور اگر اہل محلہ کے علاوہ دیگر افراد مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا چاہیں تو یہ ان کی طرف سے تبرع ہے، عنداللہ ثواب اور اجر کے مستحق ہوں گے، البتہ ان کے ذمہ مذکورہ کام کروانا لازم نہیں ہے۔
1۔ لہذا مذکورہ بالا صورت کے مطابق گاؤں والوں پر لازم ہے کہ محلہ کی مسجد کو آباد رکھیں، محلہ کی مسجد کو ویران کرنا درست نہیں ، لہذا گاؤں والوں پر لازم ہے کہ معاملہ کو آپس میں حل کرکے محلہ کی مسجد میں ہی نماز پڑھیں۔
2۔ واقف نے مذکورہ جگہ جب مسجد کے لیے زبانی طور پر وقف کردی تھی، تو اب اس پر لازم ہے کہ موقوفہ جگہ کے جتنے لوازمات ہیں مثلاً :وقف نامہ وغیرہ بنانا اس کو بھی پورا کرے، تاکہ آئندہ مذکورہ جگہ میں کوئی وراثت کا دعوی نہ کرلے،اور آپس کا باہمی جھگڑا اور فساد بھی ختم ہوجائے۔
3۔اگر محلہ میں پہلے سے ایک مسجد ہو، اور وہ وہاں کے نمازیوں کے لیے کافی ہو تو ایسی صورت میں دوسری مسجد بنانا مناسب نہیں ہے،اس سے مسلمانوں کی شوکت اور اجتماعیت میں انتشار پیدا ہوگا، جو کہ درست نہیں ہے، تاہم اگر مسجد بنادی گئی تو وہ شرعی مسجد ہوگی اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہوگا ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية وإنما يزول ملك الواقف عن الوقف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - بالقضاء".
(كتاب الوقف، الباب الأول في تعريف الوقف وركنه......، ج : 2، ص : 350، ط : رشیدیه)
وفیہ ایضاً :
"سئل القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوزجندي عن مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه هل يجوز جعله مقبرة؟ قال: لا."
(کتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، ج : 2، ص : 470، ط : رشیدیه)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأجمعوا على أن من جعل داره أو أرضه مسجدا يجوز، وتزول الرقبة عن ملكه لكن عزل الطريق وإفرازه والإذن للناس بالصلاة فيه، والصلاة شرط عند أبي حنيفة ومحمد، حتى كان له أن يرجع قبل ذلك، وعند أبي يوسف تزول الرقبة عن ملكه بنفس قوله: جعلته مسجدا، وليس له أن يرجع عنه على ما نذكره."
(كتاب الوقف والصدقة، فصل في شرائط جواز الوقف، ج : 6، ص : 219، ط : دار الکتب العلمیة)
الدر المختار میں ہے :
[مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته]
"(وصرف) الحاكم أو المتولي حاوي (نقضه) أو ثمنه إن تعذر إعادة عينه (إلى عمارته إن احتاج وإلا حفظه له ليحتاج) إلا إذا خاف ضياعه فيبيعه ويمسك ثمنه ليحتاج حاوي."
(کتاب الوقف، مطلب في الوقف إذا خرب ولم يمكن عمارته، ج : 4، ص : 377، ط : سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"رجل بنى مسجدا وجعله لله تعالى فهو أحق الناس بمرمته وعمارته وبسط البواري والحصر والقناديل، والأذان والإقامة والإمامة إن كان أهلا لذلك فإن لم يكن فالرأي في ذلك إليه. كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج : 1، ص : 110، ط : رشیدیه)
فتاوی قاضی خان میں ہے :
"رجل صلى في المسجد الجامع لكثرة الجمع لا يصلي في مسجد حيه فإنه يصلي في مسجد منزله، وإن كان قومه أقل ولم يكن في مسجد منزله مؤذن فإنه يذهب إلى مسجد منزله ويؤذن فيه ويصلي، وإن كان واحداً لأن لمسجد منزله حقاً عليه فيؤدي حقه، مؤذن مسجد لا يحضر مسجده أحد قالوا يؤذن هو ويقيم ويصلي وحده فذلك أحب من أن يصلي في مسجد آخر."
(کتاب الطھارۃ، فصل فی المسجد، ج : 1، ص : 65، ط : دار الکتب العلمیة)
فتاوی محمودیہ میں ہے :
سوال : شیخ انصاریوں نے مسجد کا سلسلہ قائم کیا اور بنیاد کھو د دی گئی اور پھر سب لوگوں نے چندہ دیا اور تمام مسلم اس وقت پر جد و جہد کرتے رہے کہ مسجد تیار ہو جائے لیکن ہم لوگوں کی بد قسمتی کہ تیار تو کر نہ سکے البتہ جھگڑا ضرور کر لیا۔ بر ادران ِ جھوجھہ تقریبا کا شتکار ہیں، اگر وہ اس میں نماز پڑھنے آتے ہیں تو لوگ اعتراض کرتے ہیں، اور مسجد کے قریب زیادہ تر بر ادر ان ِ جھوجھہ ہی ہیں اور کم برادران انصاری ہیں۔
یہ لوگ مسجد پر کوئی توجہ بھی نہیں دیتے ، نماز کا اہتمام بھی نہیں کرتے ، اذان بھی وقت پر نہیں ہوتی ، کبھی کبھی جماعت بھی نہیں ہوتی ہے۔ اگر ان کو بطور مشورہ کے کہا جاتا ہے تو جھگڑا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسجد ہماری ہے۔ تقریباً چار سال کا عرصہ ہوا کہ اس میں نماز شروع کر دی تھی۔ ہم کو اس بات کا خوف ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو جائے اور ہم تباہ و برباد ہو جائیں۔ اگر کوئی ان کی برادری سے الگ کا انسان ان کو مسجد کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے ایک بیٹھک بنادی ہے اور حقہ بھر کر رکھ دیا ہے ، بس جس کی سمجھ میں آئے پیئے نہ پیئے ، ہم تو کہنے کے لئے نہیں جائیں گے۔
براہ کرم مطلع فرمائیں کہ اس میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس وجہ سے کہ ہم لوگوں کا رہنا اس کے قریب ہے، ورنہ ہماری مسجد دوسری ہے جو ہمارے بڑوں کی تھی ، اب ہم کو محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا حکم ہے یا مسجد سابق میں ؟ اور یہ سب باتیں مسجد میں پیش آئی ہیں۔ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔
جواب :مسجد ِمحلہ کا آباد رکھنا لازم ہے، اس کو ویران چھوڑنا بہت بڑا جرم ہے ۔ مسجد کسی کی ذاتی ملک نہیں، ہر مسلمان کو اس میں نماز پڑھنے کا حق ہے، لیکن وہ جھگڑا نہ کریں نماز پڑھنے دیں ،تو پھر دوسری مسجد میں جا کر پڑھ لیا کریں، جھگڑا نہ کریں۔
(کتاب الوقف، باب احکام المساجد، ج : 14، ص : 423، ط : ادارۃ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100347
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن